ہوڑہ میں ایک اور نوجوان ہجومی تشدد کا شکار

   

کلکتہ : مغربی بنگال میں میں ایک بار پھر چوری کے شبہ میںایک نوجوان کے ساتھ ہجومی تشدد کا واقعہ پیش آیا ہے ۔یہ واقعہ ہوڑہ ضلع کے بانکڑہ میں پیش آیا ہے ۔پولیس ذرائع کے مطابق زخمی نوجوان کو مشتعل ہجوم سے بچانے کے بعد ہاوڑہ کے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے ۔ یہ واقعہ جمعہ کی رات پیش آیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق بانکڑہ کے جمعدار پاڑہ کے رہنے والا شیخ مسعود الحسن عرف منٹو رات تقریباً 9 بجے ملک بند علاقہ میں اپنے دوست کے گھر جا رہا تھا۔ اچانک لوگوں کے ایک گروپ نے ان پر حملہ کر دیا۔ 30 سالہ شخص کو موبائل چوری ہونے کے شبہ میں مارا پیٹا گیا۔ مسعود نے انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کرتا رہا کہ وہ چور نہیں ہے ۔ اس نے کسی کا موبائل فون نہیں چوری کی ہے ۔
لیکن، الزام ہے کہ اس کی باتوں پر کسی نے نہیں سنی ے ۔ تھپڑ مارنے کے ساتھ ساتھ نوجوان کو ڈنڈے سے بھی شدید زدوکوب کیا گیا۔ وہ سڑک پر زخمی حالت میں پڑا تھا۔ بعد میں مقامی لوگوں نے اسے پہچان لیا اور اسے بانکڑہ کے ایک نجی اسپتال لے گئے ۔ اب وہ وہاں زیر علاج ہے ۔ پولیس نے کہا کہ ابھی تک کسی نے شکایت درج نہیں کرائی ہے ۔ تاہم ابتدائی طور پر یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ آپس میں الجھنے کی وجہ سے ہوا ہے ۔