مختلف سربراہان مملکت یوروپی یونین کے چین سے تعلقات پر نظر ثانی کے خواہاں
برسلز: یورپی یونین کے حکام روس کے ساتھ چین کی اظہار یگانگت سے ناراض ہیں، لیکن فی الحال بیجنگ سے الگ ہونے کی حقیقی خواہش بھی کم ہے۔ تاہم ایسی آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ چین کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کی فوری ضرورت ہے۔ لیتھوانیا کے وزیر خارجہ گیبریلیئس لینڈسبرگس سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ چینی صدر کے دورہ ماسکو اور پوٹن سے ان کی ملاقات کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے، تو انہوں نے کہاکہ اگر شی جن پنگ کسی جنگی مجرم سے دوستی کرنے کا انتخاب کرتے ہیں، تو ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم چین کے بارے میں بھی بہت سنجیدہ ہو جائیں۔ گزشتہ ہفتہ ہی بین الاقوامی فوجداری عدالت نے روس کے صدر پوٹن پر جنگی جرائم کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف وارنٹ جاری کیا تھا۔ لینڈسبرگس نے کہا کہ یورپی یونین کے لیے اب آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ چین سے خطرے کو ختم کرنے کے لیے کوئی پہلا قدم اٹھانے کی ضرورت ہے پھر بالآخر تعلقات توڑنے کے لیے اقدام ہونے چاہیں۔ ہم جتنی جلدی یہ شروع کریں گے، یونین کے لیے اتنا ہی بہتر ہے۔ لیکن برسلز میں ہر کوئی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ ایسی کسی سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔ یورپی یونین کے حکام نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ بات چیت میں اس جانب اشارہ کیا کہ حالیہ برسوں میں شی جن پنگ اور پوٹن کے درمیان میں 40 سے زائد مرتبہ ملاقات ہوئی ہے۔ ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اتحاد کا اس طرح کا مظاہرہ ’توقع‘ کے مطابق ہے۔ عام تصور یہ ہے کہ چین روس کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ چین ۔ ہندوستان سمیت دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے، جس نے یوکرین میں روسی حملہ کی مذمت نہیں کی ہے۔ چین روسی تیل اور گیس کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے اور مغربی ممالک میں اس کے اس رویہ پر کافی تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔ یورپی یونین اور چین کے تعلقات پہلے سے کشیدہ ہیں اور چینی صدر شی جن پنگ کے اس بیان نے کہ، روس اور چین کے تعلقات لا محدود ہیں، اس کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔