واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر زیلنسکی کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی وہ ملاقات ختم ہوگئی ہیجس کا مقصد ایک ایسیمعاہدے کاحصول تھا جس سے یوکرین کے نایاب معدنی ذخائر تک امریکہ کی رسائی ممکن ہو گی، اور ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا ہے کہ آپ یا تو معاہدہ کرنے جا رہے ہیں یا ہم الگ ہو جائیں گے۔ ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا، ’’میں سمجھتا ہوں کہ جب تک امریکہ یوکرین کے ساتھ شامل ہے، صدر زیلنسکی امن کے لیے تیار نہیں ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری شمولیت سے انھیں مذاکرات میں بڑا فائدہ ہوگا۔‘‘ صدر نے مزید کہاکہ انہوں نے (زیلینسکی نے) قابل قدر اوول آفس میں امریکہ کا احترام نہیں کیا۔ جب وہ امن کے لیے تیار ہوں تو وہ واپس آ سکتے ہیں۔‘‘ اوول آفس میں جہاں درجنوں امریکی اور یوکرینی نامہ نگار موجود تھے، گفتگو کے آغاز کیکچھ دیر بعد جب زیلینسکی نے روس کے 2014 میں کرائمیا پر حملے کو اٹھایا تو بات چیت میں تلخی آگئی۔ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے زیلنسکی پر پرو پیگنڈیکا الزام لگایا۔ وینس نے زیلنسکی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میرے خیال میں امریکی میڈیا کے سامنییہ مقدمہ چلانے کی کوشش کرنے کے لیے اوول آفس آنا اسکی اہانت کرنا ہے۔ ٹرمپ اور وینس دونوں نے یوکرینی رہنما پر الزام عائد کیا کہ وہ ان کے ملک کو واشنگٹن سے ملنے والی امداد کے لیے شکر گزار نہیں ہیں۔آپ کے پاس ابھی متبادل نہیں ہیں،”ٹرمپ نے کہاآپ لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ آپ تیسری عالمی جنگ کی جانب لے جارہے ہیں۔جنگ بندی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے یوکرین کی حالت بیان کی اور کہا کہ زیلنسکی جنگ ہار رہے ہیں، لوگ مر رہے ہیں اور یوکرین کے فوجی بھی کم ہو رہے ہیں۔ٹرمپ نے یوکرین جنگ کی بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتے دونوں جانب سے 2 ہزار فوجی ہلاک ہوئیتھیاور ہم میدان جنگ میں لوگوں کو گولیاں کھاکر مرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔صدر ٹرمپ کے مطابق وہ امریکی سپاہی نہیں ہیں، وہ یوکرینی اور روسی سپاہی ہیں اور ہم اسے روکنا چاہتے ہیں۔
پوٹن کی امریکہ کو معدنی ذخائر کی تلاش کے معاہدہ کی پیشکش
ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے حال ہی میں امریکہ کو مستقبل کے کسی اقتصادی معاہدے کے تحت روس میں نایاب زمینی دھاتوں کے ذخائر مشترکہ طور پر ڈھونڈنے کی پیشکش کی تھی ، جس کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ روسی ذخائر کی مقدار یوکرین سے زیادہ ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ہم کر سکے تو میں روس سے بھی معدنیات خریدنا چاہوں گا۔ پوٹن کی جانب سے یہ پیش کش امریکہ اور یوکرین کے درمیان معدنیات کے ایک ابتدائی مسودے پر بات چیت کے بعد سامنے آئی تھی۔ دیکھتے ہیں روس کے پاس کونسے قیمتی معدنی ذخائر ہیں۔امریکی جیولوجیکل سروے کے اعداد و شمار کے مطابق ، چین، برازیل، بھارت اور آسٹریلیا کے بعد، روس کے پاس نایاب زمینی دھاتوں کے دنیا کے پانچویں بڑے ذخائر ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے کا تخمینہ ہے کہ روس کے نایاب معدنیات کے کل ذخائر کا تخمینہ 38 لاکھ میٹرک ٹن ہیں۔ جب کہ روس کا اس بارے میں اپنا تخمینہ اس سے زیادہ ہے۔ روس کی قدرتی وسائل کی وزارت کے مطابق، ان کے ملک میں 15 اقسام کے نایاب زمینی دھاتوں کے ذخائر ہیں جن کی کل تعداد یکم جنوری 2023 کو دو کروڑ 87 لاکھ ٹن تھی، جن میں سے 38 لاکھ ٹن ذخائر پر کام ہو رہا ہے۔ روس 2030 تک نایاب زمینی معدنیات پیدا کرنے والے دنیا کے پہلے پانچ ممالک میں شامل ہونا اور عالمی مارکیٹ میں اپنا حصہ 12 فی صد تک لے جانا چاہتا ہے۔
اوول آفس میں ٹرمپ ، وینس اور زیلنسکی کے درمیان تلخ کلامی
یوکرینی صدر سے امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیو کا معافی مانگنے کا مطالبہ، سی این این سے بات چیت
واشنگٹن: امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے مطالبہ کیا ہے کہ اوول آفس میں ہونے والی تلخی پر اْنہیں معافی مانگنی چاہیے۔امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ صدر زیلنسکی کو ہمارا وقت ضائع کرنے اور میٹنگ اس طرح ختم کرنے پر معافی مانگنی چاہیے۔خیال رہے کہ جمعے کو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی اْس وقت اوول آفس میں نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ بیٹھے تھے جب صدر ٹرمپ، نائب صدر اور یوکرینی صدر کے درمیان یوکرین جنگ کے معاملے پر سخت جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔تینوں رہنماؤں کے درمیان تکرار کے بعد امریکہ اور یوکرین کے درمیان معدنیات سے متعلق ممکنہ معاہدہ پر بھی دستخط نہیں ہوئے تھے جب کہ صدر زیلنسکی کے وائٹ ہاؤس سے چلے جانے کے بعد دونوں صدور کی مشترکہ نیوز کانفرنس بھی منسوخ کر دی گئی تھی۔امریکی وزیرِ خارجہ نے سوال اْٹھایا کہ اب دیکھنا ہو گا کہ کیا یوکرینی صدر تین سال سے جاری جنگ ختم کرنے میں سنجیدہ بھی ہیں یا نہیں۔ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ شاید صدر زیلنسکی امن معاہدہ نہیں چاہتے۔ وہ کہتے تو ہیں کہ وہ ایسا چاہتے ہیں۔ لیکن لگتا نہیں کہ وہ ایسا چاہتے ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ کے بقول یہ صورتِ حال قیام امن کے لیے کوشاں ہر شخص کے لیے مایوسی کا باعث ہے۔اوول آفس میں ہوئی تکرار کے دوران صدر ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا تھا کہ اْن کے پاس سوائے جنگ ختم کرنے کے کوئی متبادل نہیں ہے۔ یوکرین روس کے ساتھ معاہدہ کرے ورنہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے۔ صدر ٹرمپ نے کہاکہ آپ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔ آپ کے فوجی مر رہے ہیں اور آپ کے پاس کوئی آپشنز نہیں ہیں اور آپ اپنی مرضی کرنی کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں۔اس پر یوکرین کے صدر نے کہا تھا کہ روس کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ امریکہ سفارت کاری کے ذریعے اس جنگ کو ختم کرنا چاہتا ہے جس پر صدر زیلنسکی نے کہا تھا کہ کون سی سفارت کاری، ہم نے 2019 میں روس کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ لیکن 2022 میں اس نے ہم پر حملہ کر دیا۔ ملاقات کے دوران امریکی نائب صدر نے زیلنسکی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ “کیا آپ نے ایک بار بھی صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اس پر صدر زیلنسکی نے کہا کہ جی میں ایسا کئی مرتبہ کر چکا ہوں۔خیال رہے کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی کے دورۂ امریکہ کو اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا تھا۔ دورہ کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان یوکرین کی معدنیات اور قدرتی وسائل سے متعلق ایک تاریخی معاہدہ بھی متوقع تھا۔ممکنہ معاہدے کو یوکرین میں تین برس سے جاری جنگ کے خاتمے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکہ نے یوکرین کو اربوں ڈالرز کی فوجی امداد دی۔ لہٰذا اس معاہدہ کے ذریعے یوکرین کو امریکہ کو یہ رقم واپس کرنے کا موقع ملے گا۔