ماسکو: روس کی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر ایک پوسٹ میں خبردار کیا کہ یوکرین میں مغربی اقدامات کے جواب میں جوہری ردعمل کے حوالے سے روس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے ۔میدویدیف نے کہا کہ جوہری تنازعہ کسی کے مفاد میں نہیں ہے ۔ روس نے اب تک مغربی مداخلت کے جواب میں اپنی جوہری صلاحیتوں کو استعمال کرنے میں تحمل کا مظاہرہ کیا ہے ، خاص طور پر روسی سرزمین پر کیے جانے والے انتہائی درست حملوں کے سلسلے میں لیکن صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے ۔ یہ انتباہ یوکرین کو فوجی ٹیکنیکل میزائل سسٹم کی فراہمی کے بارے میں حالیہ امریکی بات چیت کے بعد کیا گیا ہے ، جو یوکرین کو روسی سرزمین پر طویل فاصلے تک مار کرنے کے قابل بنا سکتا ہے ۔کریملن نے بڑھتے ہوئے خطرے کے حوالے سے اپنی چوکسی کا اشارہ بھی دیا ہے اور کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس جوابی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے ۔روس اور یوکرین کے درمیان تقریباً دو سال سے جنگ جاری ہے۔ امریکہ اور نیٹو کی جانب سے یوکرین کی حمایت اور مدد کی جارہی ہے جس سے جنگ کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے۔