روس لاکھ کوششیں کر لے، یوکرین کی جنگ نہیں جیت سکے گا: پنٹاگان
واشنگٹن ۔ امریکہ یوکرین کو 400 ملین ڈالر کے مزید جنگی ہتھیار فراہم کرے گا۔ اس فوجی امداد میں توپ خانہ قسم کا دور تک اور تیزی سے مار کرنیوالے راکٹ سسٹم ایچ آئی ایم اے آر ایس کے چار یونٹ بھی شامل ہوں گے۔ اس امریکی امدادی کھیپ میں یہ سب سے موثر ہتھیار ہے۔ یہ بات پینٹگان کے ایک سینئر عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی ہے۔پنٹاگان کے اس عہدیدار کے بقول یوکرینی افواج اب روسی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے لگی ہیں۔ یہ کارروائیاں فرنٹ لائن سے بہت پیچھے تک ہیں اوریہ امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ اسلحے کی وجہ سے ہی ممکن ہو رہا ہے۔ ان کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ امریکہ یوکرین کے لیے اسلحہ کی یہ نئی کھیپ بھی اس صدارتی اختیار ڈرا ڈاون کے تحت ہو گی جس میں امریکی صدر کانگریس سے منظوری لیے بغیر کسی ملک کو یہ امداد دے سکتا ہے۔ پنٹاگان کے اس ذمہ دار کے مطابق اس امداد کے بعد یوکرین کے پاس دور اور تیزی سے مار کرنے والے راکٹ سسٹم کے کل امریکی یونٹس کی تعداد بارہ ہو جائے گی۔ اس سے پہلے امریکہ اس طرح کے 8 یونٹ یوکرین کو دے چکا ہے۔ پنٹاگان کے اس ذمہ دار کا مزید کہنا تھا کہ روس یوکرین کو دیے گئے پہلے 8 راکٹ سسٹمز میں سے ابھی تک کسی کو نشانہ نہیں بنا سکا ہے۔ واضح رہے روس نے ان امریکی راکٹوں کے یوکرین کو ملنے چند دن بعد ہی یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اس راکٹ سسٹم کے دو یونٹ تباہ کر دیے ہیں۔ تاہم امریکی پنٹاگان سے منسلک اس ذمہ دار نے تردید کی ہے جو ہم اب دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ اس سسٹم کے لیے میزائل بھی دے رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ یوکرین اب کامیابی کے ساتھ روسی ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یوکرین یہ نشانے خط اول سے بہت دور پیچھے روسی پوزیشنوں اور جنگی تنصیبات کے نشانے لے رہا ہے۔ اس کی وجہ سے روسی توپ خانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ پنٹاگان کے ذمہ دار نے بتایا یہ اسلحہ ڈونباس میں روسی توپ خانے کی جنگ کے مقابلے کے لیے ہے۔ علاوہ ازیں جو دیگر امداد بھجی جائے گی اس میں ٹیکٹیکل وہیکلز۔ 155 ایم ایم کے توپ خانے کے گولوں کے ایک ہزار راونڈ، عمارات تباہ کرنے والا بارود اور اضافی پرزہ جات شامل ہوں گے۔ اس فوجی ذمہ دار کے مطابق 155 ایم ایم کے گولے یوکرین کا اسلحہ بچانے میں بھی مدد کریں گے کہ یہ زیادہ جدید اور مؤثر ہیں اور یہ یوکرین کے لیے امریکی امداد کا تسلسل بھی ہے، لیکن امریکی ذمہ دار یہ بتانے میں جلدی کر رہا تھا کہ یہ اسلحہ نیا نہیں ہے جو یوکرین کو دیا جا رہا ہے، ایک طرح سے فالتو پرزہ جات ہیں۔ اس سے یوکرین کی ہتھیاروں کی مرمت ممکن ہو جائے گی اور وہ اپنے جنگی سسٹم کو بحال رکھ سکے گا۔ جو امریکہ اور اس کے اتحاد ی یوکرین کو چند ماہ سے اسلحہ دے رہے ہیں۔