۔18 ایم ایل سی نشستوں کیلئے ٹی آر ایس میں50 سے زائد دعویدار

,

   

ایم ایل اے کوٹہ کے 6 امیدواروں کیلئے آج مشاورت، چیف منسٹر کیلئے فیصلہ آسان نہیں، نئے قائدین کی مخالفت
حیدرآباد۔/14نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں ایم ایل سی کی 18 نشستوں کے انتخابات کیلئے سیاسی سرگرمیاں تیز ہوچکی ہیں۔ کونسل کی 6 نشستیں ایم ایل اے کوٹہ کی ہیں جبکہ 12 نشستیں مجالس مقامی کوٹہ سے ہیں جن کیلئے علی الترتیب 29 نومبر اور 10 ڈسمبر کو رائے دہی مقرر ہے۔ برسراقتدار پارٹی کیلئے ایم ایل اے کوٹہ کی 6 نشستوں پر بلامقابلہ اپنے امیدواروں کو منتخب کرنے کے امکانات یقینی ہیں کیونکہ اسمبلی میں کسی بھی اپوزیشن جماعت کو الیکشن میں مقابلہ کیلئے درکار نشستیں حاصل نہیں ہیں۔ مجالس مقامی زمرہ کی 12 نشستوں کیلئے کانگریس پارٹی نے مقابلہ کی تیاری شروع کردی ہے۔ برسراقتدار پارٹی ٹی آر ایس میں ایم ایل سی ٹکٹ کیلئے خواہشمندوں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ جملہ 18 نشستوں کیلئے تقریباً 50 سے زائد مضبوط دعویدار میدان میں آچکے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ایم ایل سی نشستوں کے امیدواروں کے مسئلہ پر وزراء اور پارٹی قائدین سے ابھی تک باقاعدہ مشاورت نہیں کی ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ دو دنوں میں ایم ایل اے کوٹہ کے 6 پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا جائے گا کیونکہ اس زمرہ کیلئے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 16 نومبر ہے۔ چیف منسٹر توقع ہے کہ پیر کے دن اس سلسلہ میں مشاورت کرتے ہوئے قائدین کے ناموں کو قطعیت دیں گے۔ ایم ایل سی کوٹہ کی 6 نشستوں میں ایک مسلمان کو ٹکٹ دیئے جانے کی قیاس آرائیاں ہیں کیونکہ مجالس مقامی زمرہ میں مسلم اقلیت کو نمائندگی دینا آسان نہیں ہے لہذا جملہ 18 نشستوں میں کم از کم ایک نشست مسلم اقلیت کو الاٹ کی جاسکتی ہے۔ ایم ایل اے کوٹہ کی 6 نشستوں کے اہم دعویداروں میں سابق اسپیکر ایس مدھو سدن چاری، سابق صدر نشین قانون ساز کونسل جی سکھیندر ریڈی ، سابق وزیر کڈیم سری ہری، تلنگانہ تلگودیشم کے سابق صدر ایل رمنا، حضورآباد الیکشن سے قبل کانگریس سے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے والے کوشک ریڈی، کے کویتا ، ایم کوٹی ریڈی، ٹی ناگیشور راؤ، اے وینکٹیشور ریڈی، دیشا پتی سرینواس ، کے پربھاکر ، پی سرینواس ریڈی، ایم وینکٹیشورراؤ، ایم راج شیکھر ریڈی، ایم سرینواس ریڈی اور دوسرے شامل ہیں۔ ٹی آر ایس میں ایم ایل سی نشستوں کیلئے امیدواروں کا انتخاب ایک انار سو بیمار کی طرح ہے اور چیف منسٹر کیلئے امیدواروں کے ناموں کو قطعیت دینا موجودہ حالات میں اور بھی دشوار کن ہوچکا ہے۔ حضورآباد میں پارٹی کی شکست کے بعد نئے قائدین کو امیدوار بنائے جانے کی مخالفت کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ جون میں جن 6 ارکان کونسل کی میعاد ختم ہوئی ان میں جی سکھیندر ریڈی، این ودیا ساگر ، بی وینکٹیشورلو، بی وینکٹیشورلو، کے سری ہری، اے للیتا اور محمد فرید الدین شامل ہیں۔ر