حیدرآباد۔27۔نومبر(سیاست نیوز) سپریم کورٹ کی ہدایت پر آئمہ و مؤذنین کو دیا جانا والا اعزازیہ اب خطرہ میں ہے! گجرات سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی و چیف انفارمیشن کمشنرادئے ماہورکر نے 1993میں سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کئے گئے آئمہ و مؤذنین کو ریاستی حکومتوں و وقف بورڈ کی جانب سے ادا کئے جانے والے اعزازیہ کو دستور کی دفعہ 27 کی صریح خلاف ورزی قراردیتے ہوئے ایک نئی بحث چھیڑدی ہے۔ چیف انفارمیشن کمشنر نے کمیشن کو ہونے قانون حق آگہی کے تحت موصول ہونے والی ایک درخواست کی سماعت کے دوران یہ بات کہی۔ انہو ںنے دہلی میں آئمہ و مؤذنین کو ریاستی حکومت اور وقف بورڈ کی جانب سے جاری کئے جانے والے اعزازیہ کے متعلق تفصیلات کے حصول کے لئے موصول ہونے والی درخواست کی سماعت کے دوران کہا کہ 13 مئی 1993 کو سپریم کورٹ نے آل انڈیا امام آرگنائزیشن اور حکومت ہند کے درمیان ایک مقدمہ میں حکومت کے زیر انتظام مساجد میں خدمات انجام دینے والے آئمہ و مؤذنین کے لئے مشاہرہ کی اجرائی کی ہدایت دی تھی اور ملک کی کئی ریاستو ںمیں اس پر عمل آوری بھی کی جارہی ہے لیکن چیف انفارمیشن کمشنر نے اس معاملہ پراپنی رائے دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو دستور کے مغائر قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کی جانب سے وصول ہونے والی دولت میں کسی ایک مذہب کی مدد یا حمایت نہیں کی جاسکتی ۔ انہو ںنے اپنے قانون حق آگہی کے تحت موصول ہونے والی درخواست کی سماعت کے بعد اپنے فیصلہ میں کہا کہ ان کے احکامات مرکزی حکومت بالخصوص وزارت قانون کو روانہ کی جائیں اور انہیں اس بات کی ہدایت دی جائے کہ وہ دستور کی دفعات 25 تا 28 کے نفاذ کو یقینی بنائیں اور تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والی مذہبی شخصیات کو مستفید کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔حکومت ہند ‘ وزارت قانون کے علاوہ ملک کی تمام ریاستی حکومتوں کو ان کے یہ احکامات روانہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ادئے ماہورکر چیف انفارمیشن کمشنر 3کتابوں کے مصنف بھی ہیں جنہوں نے 2014 میں ’سنٹر اسٹیج: انسائیڈ دی نریندر مودی ماڈل آف گورننس‘2017میں مارنگ وتھ بلینس کے علاوہ سال 2021میں ویر ساورکر : دی مین ہوکڈ ہائیوپریونٹ دی پارٹیشن شائع کی ہیں اور ان کتابوں میں نریندر مودی کے طرز حکمرانی کے علاوہ ساورکر کی شخصیت کے متعلق مثبت پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے۔م