حیدرآباد۔/16 فروری، ( سیاست نیوز) حیدرآباد اور ملک کے دیگر میٹرو شہروں میں نومبر میں پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی جبکہ مرکزی حکومت نے ایکسائیز ڈیوٹی میں کمی کا فیصلہ کیا تھا لیکن قیمتوں میں دوبارہ اضافہ کے امکانات ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 5 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ 3 نومبر کو حیدرآباد میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت فی لیٹر علی الترتیب 114.49 روپئے اور 107.40 روپئے تھی جو 4 نومبر کو گھٹ کر 108.2 روپئے اور 94.62 روپئے فی لیٹر ہوگئی تھی۔ 4 نومبر سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی خاص تبدیلی ریکارڈ نہیں کی گئی تاہم یہ قیمتیں بین الاقوامی مارکٹ کی قیمتوں سے مطابق نہیں ہیں۔ بین الاقوامی مارکٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیارل ہے۔ بین الاقوامی مارکٹ میں خام تیل فی بیارل 93.10 روپئے ہے جبکہ 4 نومبر کو اس کی قیمت 80.54 روپئے فی بیارل تھی۔ اس طرح فی بیارل قیمت میں 15.59 فیصد کا اضافہ ہوا۔ امید کی جارہی ہے کہ جاریہ سال تیل کی قیمت فی بیارل 100 ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اضافہ کی مختلف وجوہات ہیں۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازعہ کے نتیجہ میں تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ روس دنیا کا سب سے بڑا خام تیل اور سونا پیدا کرنے والا ملک ہے اور اس کے خلاف کوئی مغربی تحدیدات عالمی سربراہی کو متاثر کریں گے۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک اوپیک طلب کے مطابق تیل کی سربراہی سے قاصر ہیں۔ اُتر پردیش اور دیگر ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے سبب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ توقع ہے کہ انتخابات کے بعد قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ ذرائع کے مطابق تیل کمپنیاں جنہوں نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا وہ انتخابات کے بعد اپنے نقصانات کی پابجائی کیلئے اضافہ کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ ر