نیویارک: عالمی مالیاتی ادارے نے اعلان کیا ہے کہ حال ہی میں پاکستان کیلئے منظور کیے جانے والے تین ارب ڈالرز کے بیل آؤٹ پیکیج پر ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے یقین دہانی حاصل کی جائے گی۔آئی ایم ایف کی پاکستان میں نمائندہ ایستھر پریزرز کے مطابق کیونکہ پاکستان میں رواں برس عام انتخابات ہونا ہیں، لہٰذا پالیسیوں میں تسلسل اور دیگر معاملات پر یقین دہانی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کا اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے تصدیق کی ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد جمعے کو لاہور میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کرے گا۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آئی ایم ایف کے عہدیداروں سے ملاقات میں کچھ ان کی سنیں گی اور کچھ اْنہیں سنائیں گے۔پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما حماد اظہر کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے پی ٹی آئی کی معاشی ٹیم کے ساتھ رابطہ کیا ہے اور اس سلسلے میں آئی ایم ایف کا وفد جمعے کو عمران خان سے ملے گا۔اْن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی معاشی ٹیم کے رْکن بالمشافہ اور آن لائن اس ملاقات میں شریک ہوں گے۔
پاکستانی حکام پراْمید ہیں کہ نو ماہ کے لیے ملنے والے بیل آؤٹ پیکیجکی پہلی قسط 12 جولائی کو موصول ہو جائے گی۔وزارتِ خزانہ نے کئی ہفتوں کی کوشش کے بعد آئی ایم ایف کو ایک نئے قلیل المدت یعنی اسٹینڈ بائی معاہدے کے لیے رضامند کیا تھا جس کے تحت پاکستان کو تین ارب ڈالرمل سکتے ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی نے اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔