سنٹرل ڈیپوٹیشن کیلئے عہدیداروں کی دستیابی، مرکزی وزیر جتیندر سنگھ کی وضاحت
حیدرآباد۔/22 فروری، ( سیاست نیوز) آئی اے ایس کیڈر رولس 1954 میں مرکز کی جانب سے ترمیم کی ریاستوں نے مخالفت کی ہے۔ تاہم مرکزی حکومت نے واضح کیا کہ مجوزہ ترمیم سے ریاستوں میں آئی اے ایس عہدیداروں کی کوئی قلت نہیں رہے گی اور ترمیم کا مقصد سنٹرل ڈیپوٹیشن کیلئے آئی اے ایس عہدیداروں کی موثر تعداد کو یقینی بنانا ہے۔ مرکزی مملکتی وزیر پرسونل جتیندر سنگھ کے مطابق مجوزہ ترمیم سے ریاستوں کے اختیارات متاثر نہیں ہوں گے اور نہ ہی ریاستی نظم و نسق پر اثر پڑے گا۔جتیندر سنگھ نے کہا کہ انڈین ایڈمنسٹریٹو سرویس ریگولیشن 1955 کے تحت 40 فیصد تک عہدیداروں کو سنٹرل ڈیپوٹیشن کیلئے محفوظ رکھا جانا چاہیئے لیکن ریاستی حکومتوں کی جانب سے مناسب تعداد میں عہدیدار فراہم نہیں کئے جارہے ہیں لہذا حکومت نے ترمیم کے ذریعہ عہدیداروں کو سنٹرل ڈیپوٹیشن پر حاصل کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ ترمیم کے سلسلہ میں ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں سے رائے طلب کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت نے مجوزہ ترمیم کی شدت سے مخالفت کرتے ہوئے آئی اے ایس عہدیداروں میں کمی کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو اس سلسلہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مکتوب روانہ کیا۔ر