ایرانی کشتیوں سے فائرنگ کی گئی ۔ دونوں ہی جہازوں نے واپسی اختیار کرلی
نئی دہلی ۔ 18 اپریل ( سیاست نیوز ) آبنائے ہرمز میں آج دو ہندوستانی پرچم والے بحری جہاموں پر ایرانی کشتیوں کی جانبس ے فائرنگ کی گئی ۔ تاہم اس واقعہ میں کوئی زخمی نہیں ہوا ہے اور نہ ہی بحری جہازوں کو کوئی نقصان پہونچا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں بحری جہاموں کو اس واقعہ کے بعد تاہم واپسی اختیار کرنی پڑی ۔ ان دو بحری جہازوں میں ایک بہت بڑا خام تیل منتقل کرنے والا جہاز بھی شامل ہے ۔ اس واقعہ کے بعد ہندوستان نے ایرانی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کرتے ہوئے فائرنگ کے واقعہ پر شدید تشویش سے واقف کروایا وزارت خارجہ کے ایک بیان میں یہ بات بتائی گئی ۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران کی کارروائیوں کو بہتر نہیں سمجھا جا رہا ہے اور علاقہ میں جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ اس وقاعہ کے نتیجہ میں جنگ بندی کے تعلق سے الجھن پیدا ہوگئی ہے ۔ امریکہ کو بھی اس جنگ کے دوران کچھ جہازوں پر فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ قبل ازیں آج دن میں ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کردینے کا اعلان کیا تھا جب امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ جاری رکھا گیا تھا ۔ اس کے نتیجہ میں کئی تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گذرنے کے فیصلے منسوخ کرنے پڑے ۔ ایران نے لبنان اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کو بحری تجارتی جہازوں کیلئے کھول دینے کا اعلان کیا تھا ۔ تاہم آج صبح ایران نے کہا کہ چونکہ امریکہ نے محاصرہ جاری رکھا ہے اس لئے ایران بھی آبنائے ہرمز کو بند ہی رکھے گا ۔