آبپاشی پراجکٹس اور ذخائر آب کے اطمینان بخش ذخیرہ میں مہاراشٹرا سرفہرست

   

مدھیہ پردیش ، گجرات ، تلنگانہ اور آندھراپردیش کا موقف بھی اطمینان بخش، مانسون پر ذخائر آب کا انحصار
حیدرآباد ۔13 ۔ جولائی (سیاست نیوز) ملک میں زرعی شعبہ اور پینے کے پانی کی ضرورت کی تکمیل کیلئے زیادہ تر آبپاشی پراجکٹس اور ذخائر آب پر انحصار کیا جاتا ہے۔ مانسون کی کامیابی کی صورت میں ذخائر آب کی سطح میں اضافہ کے سبب ایک سال تک زرعی اور دیگر اغراض کے لئے پانی کی طلب مکمل کی جاتی ہے ۔ ملک بھر میں پراجکٹس اور ذخائر آب میں بہتر پانی کی سطح کے معاملہ میں مہاراشٹرا ملک میں سرفہرست ہے۔ مہاراشٹرا میں کرشنا اور گوداوری دریاؤں پر پراجکٹس تعمیر کئے گئے جس کے نتیجہ میں مانسون کے غیر اطمینان بخش ہونے کے باوجود پانی کی سطح اطمینان بخش برقرار رہتی ہے۔ ایک سروے کے مطابق ملک کے تمام ذخائر آب میں پانی کی دستیاب گنجائش 311.45 بلین کیوبک میٹر درج کی گئی ہے۔ مہاراشٹرا کے ذخائر آب اور آبی پراجکٹس میں پانی کا ذخیرہ 46.45 بلین کیوبک میٹر درج کیا گیا ہے جبکہ مدھیہ پردیش 46.18 بلین کیوبک میٹر کے حساب سے دوسرے نمبر پر ہے۔ جن ریاستوں میں ذخائر آب کی تعداد زیادہ ہے ، وہاں پانی کی گنجائش اطمینان بخش درج کی گئی۔ پانی کے ذخائر کے اعتبار سے کرناٹک ، گجرات ، اڈیشہ اور تلنگانہ کے علاوہ آندھراپردیش میں ذخائر کا موقف اطمینان بخش پایا گیا ہے۔ ملک کی تمام ریاستوں کے ذخائر آب میں پانی کے موقف کا جائزہ لینے کیلئے سروے کیا گیا۔ کرناٹک میں ذخائر آب کی گنجائش 30.77 بلین کیوبک میٹر درج کی گئی جبکہ تلنگانہ میں 21.44 بلین کیوبک میٹر اور آندھراپردیش میں 20.51 بلین کیوبک میٹر ذخائر آب کی سطح درج کی گئی ہے۔ اڈیشہ میں 24.69 اور گجرات میں 26.35 بلین کیوبک میٹر ذخائر آب کا موقف درج کیا گیا ہے۔ گزشتہ تین برسوں سے ملک کی بیشتر ریاستوں میں مانسون ناکام ثابت ہوا ہے اور بارش معمول سے کم ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجہ میں ذخائر آب کے موقف میں کمی آئی ہے۔1/k/b/k