کرنول کے شخص کی شکایت پر نیشنل گرین ٹریبونل کے احکامات
حیدرآباد ۔22 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) نیشنل گرین ٹریبونل نے اجازت کے بغیر آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر پر تلنگانہ کے خلاف بھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔ پالمور رنگا ریڈی اور ڈینڈی پراجکٹس کی ضروری منظوریوں کے بغیر تعمیر پر 900 کروڑ کا جرمانہ عائدکیا گیا ہے۔ ان پراجکٹس کو ماحولیاتی اور دیگر منظوریاں حاصل نہیں ہے لیکن حکومت نے تعمیری کاموں کا آغاز کردیا ہے ۔ گرین ٹریبونل نے سابق میں اپنے احکامات میں پراجکٹس کی تعمیر روکنے کی ہدایت دی تھی۔ ٹریبونل کے فیصلہ کی خلاف ورزی پر پراجکٹس کی مجموعی رقم کا 1.5 فیصد جرمانہ کے طور پر عائد کرتے ہوئے نیشنل گرین ٹریبونل کے چینائی بنچ نے فیصلہ سنایا۔ کے وینکٹیا نامی شخص نے گرین ٹریبونل سے رجوع ہوتے ہوئے شکایت کی تھی کہ تلنگانہ حکومت ضروری اجازت کے بغیر ہی پراجکٹس تعمیر کر رہی ہے۔ کرنول سے تعلق رکھنے والے ایک شخص اور آندھراپردیش حکومت نے مشترکہ طور پر شکایت درج کی تھی۔ گرین ٹریبونل نے سماعت کرتے ہوئے پراجکٹس کی اجازت کے بغیر تعمیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر جرمانہ عائد کیا ہے ۔ آندھراپردیش حکومت کی جانب سے داخل کی گئی درخواست میں ماحولیاتی منظوری نہ ہونے کی شکایت کی گئی جس پر تلنگانہ حکومت کے خلاف 300 کروڑ کا جرمانہ عائد کیا گیا ۔ پالمور رنگا ریڈی پراجکٹ کے سلسلہ میں 528 کروڑ کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے جبکہ ڈینڈی پراجکٹ کی تعمیر کیلئے 92 کروڑ جرمانہ عائد کیا گیا ہے ۔ ٹریبونل نے تلنگانہ حکومت کو اندرون تین ماہ جرمانہ کی رقم ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کو جرمانہ کی رقم ادا کی جائے۔ر