آر ایس ایس مسلم ووٹ کے ذریعہ بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کوشاں

   

مسلم سیاسی، سماجی، ملی اور مذہبی جماعتوں سے مذاکرات، مذہبی جماعتوں کے ذمہ دار احساس کمتری کا شکار

محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔28 جنوری۔ملک کی معاشی ‘ سیاسی اور سماجی صورتحال سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہونے والے نقصانات کی پابجائی آر ایس ایس مسلم ووٹ سے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے!ہندستان میں 2014 عام انتخابات سے قبل ہونے والی بے قاعدگیوں و بدعنوانیوں سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے ساتھ فرقہ وارانہ منافرت کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی نے اقتدار حاصل کیا تھا اور جو لوگ فرقہ وارانہ منافرت کا شکار نہیں ہوئے تھے وہ بدعنوانیوں و بے قاعدگیوں کے خاتمہ کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ کرچکے تھے لیکن اب جبکہ بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوئے 9 برس گذر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود بدعنوانیوں و بے قاعدگیوں کا خاتمہ نہیں ہوا بلکہ تجارتی برادری کو ہونے والے نقصانات سے بی جے پی کے حامی اکثریتی طبقہ میں پارٹی سے ناراضگی پائی جاتی ہے اور مجموعی اعتبار سے پارٹی کو حاصل ہونے والے جملہ ووٹوں میں 3تا5فیصد ووٹ کے نقصان کے خدشات کے پیش نظر ان ووٹوں کی پابجائی بھارتیہ جنتا پارٹی آرایس ایس کی ایماء پر مسلمانوں سے کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ملک بھر میں اگر تجارتی برادری اور بے قاعدگیوں و بدعنوانیوں میں خاتمہ کے لئے 2014 سے نریندر مودی کو ووٹ کرنے والے رائے دہندوں میں اگر 3تا5فیصد کی بھی کمی واقع ہوتی ہے تو ایسی صورت میں بی جے پی کو بڑا دھکا لگ سکتا ہے لیکن اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے آر ایس ایس نے جو منصوبہ تیار کیا ہے اسی منصوبہ کے تحت اب مسلم سیاسی ‘ سماجی ‘ ملی اور مذہبی جماعتوں سے مذاکرات شروع کئے جاچکے ہیں ۔ مسلم سیاسی جماعتوں کی جانب سے بی جے پی کی مدد کے الزامات کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن اب سماجی ‘ ملی اور مذہبی جماعتیں بھی شخصیات سے پرے آر ایس ایس کی قیادت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے ملک سے اوپر تصور کرنے لگی ہیں۔آر ایس ایس کے وفد سے مسلم ملی و مذہبی جماعتوں کے ذمہ داروں کی ملاقات پر پیدا ہونے والی صورتحال اور ان ملاقاتوں کے انکشاف کے بعد جس طرح کی وضاحتیں سامنے آرہی ہیں انہیں دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ مسلم مذہبی جماعتوں کے ذمہ دار احساس کمتری کا شکار ہوچکے ہیں اورامت مسلمہ میں مایوسی پھیلانے کے مشن پر کام کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند کے سیکریٹری جناب ملک معتصم خان نے جو ویڈیو پر وضاحت پیش کی ہے اس میں انہوں نے کہا کہ ملک میں انصاف اور قانون کی حکمرانی ‘ افہام و تفہیم کے علاوہ دیگر امور کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات چیت جاری رہنی چاہئے لیکن ان ملاقاتوں میں مساجد کو لینے یا دینے کی کوئی بات نہیں ہے۔ اگر واقعی ملک میں قانون کی حکمرانی ‘ ظلم کا خاتمہ اور افہام و تفہیم کی ضرورت محسوس ہورہی ہے تو اس کے لئے حکومت بالخصوص وزیر اعظم نریندر مودی سے راست دو ٹوک انداز میں بات چیت کی جاسکتی ہے لیکن آر ایس ایس سے قانون کی حکمرانی ‘ عدلیہ میں ہونے والی ناانصافیوں پر تبادلہ خیال ‘ عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ کی تشکیل کے لئے ملاقاتوں اور بات چیت ناقابل فہم ہے۔ ملک بھر میں نام نہاد مسلم قائدین اور عمائدین ملت سے مذاکرات کے عمل کے ذریعہ آر ایس ایس اور بی جے پی یہ تاثر دینے کی کوشش میں مصروف ہے کہ بی جے پی اب ہندستانی مسلمانوں کے لئے قابل قبول ہوچکی ہے اور آر ایس ایس کے قائدین سے ملاقات کرنے والے نام نہاد مسلم ملی و مذہبی قائدین جو انداز اختیار کئے ہوئے ہیں اس سے یہ بات عام ذہنوں میں پیدا ہونے لگی ہے کہ وہ جنہیں اپنے قائدین و رہبر تصور کرتے رہے وہی اب جمہوری ہندستان میں آر ایس ایس کو ’قصر سلطانی ‘ تصور کرچکے ہیں تو ایسی صورت میں عام شہری بھی خوف میں مبتلاء ہوجائیں گے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2014میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد مسلم ووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ اقتدار پر برقرار رہنے کی حکمت عملی تیار کی اور اس کی کئی مثالیں موجود ہیں لیکن اترپردیش اور گجرات صوبائی اسمبلی کے گذشتہ انتخابات میں مسلم ووٹ میں اپنے حصہ کی نشاندہی کے بعد حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے ووٹ کی تقسیم کے ساتھ ساتھ اکثریتی طبقہ میں پائی جانے والی ناراضگی کے سبب ہونے والے ووٹ کے نقصان کی پابجائی مسلمانوں کے ذریعہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے اسی منصوبہ کے تحت ملک کی ہر ریاست میں آر ایس ایس کے ہمنوا مسلم ٹولیوں کو سرگرم کردیا گیا ہے ۔ جو لوگ آر ایس ایس قائدین سے ملاقات کے ذریعہ حالات کو تبدیل کرنے کی کوششوں کی بات کررہے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ مولانا کلیم صدیقی کی آ ر ایس ایس سربراہ سے ملاقات کے بعد بھی قدامت پسند و ترقی پسند رویہ اختیار نہ کئے جانے کے نتیجہ میں قید و بند کی صعوبتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس بات چیت کو جاری رکھنے کی بات کریں ۔ہندستان کی مسلم سیاسی ‘ سماجی ‘ ملی اور مذہبی جماعتو ںکو اب ان ملاقاتوں کی غرض و غائت کے متعلق امت مسلمہ کو جواب دینا ہوگا کیونکہ ان کی یہ خفیہ ملاقاتیں اور بعض مؤظف آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر مذاکرات کے نام پر خودسپردگی اختیار کرنے کے نظریہ کو واضح کرنا چاہئے ۔