آر ایس ایس نے خود کو رجسٹرڈ کیوں نہیں کروایا

   

ناگیش چوہدری
آج کل کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے کے کافی چرچے ہیں اور خاص طورپر آر ایس ایس ۔ بی جے پی قائدین و کارکنوں کے ساتھ سنگھ پریوار کے حامیوں اور ہمدردوں میں اُن کے خلاف کافی برہمی پائی جاتی ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ مسٹر پریانک کھرگے نے آر ایس ایس اور بی جے پی کی ’’دکھتی رگ ‘‘ پر ہاتھ رکھ دیا ہے ۔ انھوں نے ببانگ دہل آر ایس ایس کو شدید تنقید کا نشانہ بناکر اُسے ایک غیررجسٹرڈ تنظیم کہتے ہوئے سارے ملک کو اس کی حقیقت سے واقف کروایا ہے ۔ نتیجہ میں اکثر وبیشتر ہندوستانیوں کو یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی تنظیم ہونے کا دعویٰ کرنے والی آر ایس ایس ایک غیررجسٹرڈ تنظیم ہے ۔ مسٹر پریانک کھرگے کے خیال میں آر ایس ایس کو ایک ذمہ دار اور منظم تنظیم ہونے کے ناطے رجسٹرڈ ہونا چاہئے کم از کم اب بھی وہ خود کو رجسٹر کروالے تو بہتر رہے گا ۔
یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ کرناٹک میں کانگریس کی حکومت ہے اور اس جنوبی ریاست کے وزیرداخلہ پریانک کھرگے نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو ایک لیٹر لکھا جس میں انھوں نے پرزور انداز میں کہا کہ اگر کرناٹک میں ایسی بڑی تنظیم ( آر ایس ایس ) کام کررہی ہے تو پھر وہ رجسٹرڈ کیوں نہیں ہے؟ انھوں نے لیٹر میں موہن بھاگوت سے یہ بھی دریافت کیا کہ اس آرگنائزیشن یا تنظیم کا مقصد کیا ہے اور وہ کیسے کام کررہی ہے؟ اس کے ارکان کی حقیقی تعداد کیا ہے ؟ مسٹر پریانک کھرگے نے آر ایس ایس سربراہ سے یقینا اچھے سوال کئے ، اُن کے سیدھے سیدھے جواب دینے کی بجائے موہن بھاگوت کا کہنا تھاکہ ہندو مذہب بھی رجسٹرڈ نہیں ہے ؟ یہ کوئی جواب نہیںہوسکتا کیونکہ آر ایس ایس کوئی مذہبی تنظیم نہیں بلکہ وہ خود کو ایک ثقافتی تنظیم کہتی ہے اور اُس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم (آر ایس ایس ) ہندوؤں کاتحفظ کررہے ہیں اور ایک کلچرل آرگنائزیشن ہے اور کرناٹک کے وزیرداخلہ جو دریافت کررہے ہیں جس بات کامطالبہ کررہے ہیں وہ سیاست ہے اور ہم تو کھلے میدان میں کام کرتے ہیں ۔
بہرحال کرناٹک کے وزیرداخلہ مسٹر پریانک کھرگے کا یہ بھی کہنا تھاکہ ان کا مقصد آر ایس ایس پر پابندی عائد کرنے کی تجویز پیش کرنا نہیں بلکہ اس کے کام کاج میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا ہے ۔ انھوں نے موہن بھاگوت کو لکھے گئے لیٹر میں آر ایس ایس کی قانونی حیثیت ، اُس کے مالی ذرائع اور دوسری تفصیلات منظرعام پر لانے کی اپیل کی ۔ میڈیا رپورٹس میں کھرگے کے حوالے سے یہاں تک کہا گیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تمام تنظیمیں قانون کے دائرے میں رہ کر کام کریں اور چونکہ وہ ریاست کے وزیرداخلہ ہیں اس ناطے کسی بھی تنظیم کو قانون کی پابندی کے بغیر کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔
رجسٹریشن ایکٹ : انگریزوں نے 1860 ء میں ہندوستانیوں کو رجسٹریشن ایکٹ سے واقف کروایا باالفاظ انگریزوں نے ہمارے ملک میں 1860 ء کے دوران قانون رجسٹریشن متعارف کروایا ۔ اس قانون کے مطابق تمام تنظیمیں، غیرسرکاری تنظیمیں رجسٹر کی جاسکتی ہیں اور کئی تنظیموں نے اسی قانون کے تحت خود کو رجسٹرڈ کروایا ۔ مثال کے طورپر سنکٹ سبھا نے 1860ء ، رادھا سوامی نے 1861 ء ، سرواجانک سبھا نے 1870ء ، ستیہ شودھک سماج نے 1973ء اور راما کرشنا مشن نے 1921 ء میں خود کو رجسٹرڈ کروایا ۔ ایسے میں اگر آر ایس ایس خود کو رجسٹرڈ نہیں کروایا تو اس کے پیچھے یہی وجہ ہوگی کہ آر ایس ایس خود کو ریاست سے بالاتر سمجھتی ہے ۔ خود کو حکومت سے بالاتر تصور کرتی ہے اور یقینا وہ حکومت کو ثانوی تصور کرتی ہے ۔
گولوالکر نے اپنی کتاب We or Our Nationhood میں جو 1939 ء میں لکھی گئی قوم اور ریاست کے تصور یا نظریہ پر بحث کی ساتھ ہی ان دونوں (قوم اور ریاست ) کے درمیان تعلقات کی وضاحت و تشریح کی ۔ اُن کا کہنا تھا کہ قوم ریاست یا حکومت سے بالاتر ہے ۔ اور ہاں گولوالکر نے جو کچھ لکھا ویدوں اور سمرتیوں میں دیئے گئے چتوروانیا کی تصوراتی ساخت کے مطابق ہے ۔ چتوروانیا کے مطابق برہمن شتریاوں ، ویشیاؤں اور شدراس سے برتر و بالاتر ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ راجہ یا شتریہ برہمنوں سے کمتر ہیں۔ گولوالکر نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہاں تک کہدیا کہ ہم اس ملک کے مالک ہیں ۔ اُن کا کہنا تھاکہ سنگھ نہ صرف ہندو راشٹرا کی نمائندہ شکل ہے بلکہ یہ ہماری نظروں میں ہندو راشٹرا کی شکل میں موجود ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ساری سرزمین ہند سنگھ کی ہے اور بحیثیت قوم اس میں ایک احساس ملکیت پایا جاتا ہے۔
آج کے وزیراعظم آر ایس ایس کے ایک والینٹر ہیں جن کی آر ایس ایس نے تربیت کی ہے اس لئے ان کا ویژن اصل میں آر ایس ایس کا ویژن ہے ، اس مسئلہ ( آر ایس ایس کے غیررجسٹرڈ ہونے ) کو کانگریس کے اقتدار کے دوران اُٹھایا جانا چاہئے لیکن ایسا لگتا ہے کہ کانگریس نے اس سنگین معاملہ سے جان بوجھ کر آنکھیں موڑلی لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ کانگریس میں ایک لابی تھی جس نے آر ایس ایس کی تائید و حمایت کی اس لئے آر ایس ایس بڑی تیزی سے ترقی کرتی تھی اور اپنے ایجنڈہ کے مطابق کام کرنا شروع کردیا ۔ دوسرے آر ایس ایس سربراہ ایم ایس گولوالکر نے بھی یہ کہا تھا کہ ہم ملک کے مالک ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ کرناٹک کے وزیرداخلہ پریانک کھرگے آر ایس ایس سے کہہ رہے ہیں کہ وہ خود کو رجسٹریشن ایکٹ کے تحت رجسٹر کروائے اور وہ جو کچھ بھی جواب دیں ۔ آر ایس ایس کے پنشن اور اسٹیٹ کے ویژن کے مطابق دیں ۔ ویسے بھی آر ایس ایس کی نظر میں قوم کا مطلب آر ایس ایس ہے اور آر ایس ایس حکومت سے بالاتر ہے ایسے میں حکومت یا کسی ریاست کا وزیر آر ایس ایس کو حکم نہیں دے سکتا کیونکہ وہ ( آر ایس ایس ) خود کو قوم اور ریاست سے بالاتر سمجھتی ہے۔ بہرحال اب موہن بھاگوت کرناٹک کے وزیرداخلہ کے کسی بھی سوال کا جواب نہ دینے کا اعلان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ وہ اس قسم کے سوالات کے جوابات نہیں دیتے اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ بالواسطہ طورپر یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ کسی کو جوابدہ نہیں ہے جیسے کہ وہ حکومت سے بالاتر ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہیکہ کھرگے کیا کرتے ہیں اور اس کا انجام کیا ہوگا ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے اپنی کتاب ”What Congress and Gandhi have done to the untouchables” میں لکھا ہے کہ برہمن حکومت کررہے ہیں ۔ وہ لوگوں کے جذبات پر کنٹرول کرتے ہیں ۔ مطلب یہ کہ وہ حکومت کرنے والے طبقات میں ہیں اس انداز میں وہ آر ایس ایس کے ہندونیشن کے مساوی ہے ۔