آر ٹی اے ٹسٹ ٹرئیکس ابتر حالت میں

   


شہر سے کافی دور ہونے سے مشکلات، بنیادی سہولتوں کا فقدان

حیدرآباد ۔ 10 ستمبر (سیاست نیوز) ٹووہیلرس، تھری وہیلرس، فوروہیلرس اور دیگر زمروں کی گاڑیوں کیلئے ایک مستقل ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کیلئے ریجنل ٹرانسپورٹ اتھاریٹی (آر ٹی اے) ٹسٹ کیلئے جانے والے درخواست گذاروں کیلئے صرف ٹسٹ دینا ہی نہیں بلکہ یہ ایک بڑا کٹھن کام ہوگیا ہے کیونہ ٹسٹ ٹرئیکس شہر سے کافی دور واقع ہیں حالانکہ گریٹر حیدرآباد میں 11 آر ٹی اے دفاتر ہیں لیکن ڈرائیونگ ٹسٹ ٹرئیکس صرف ناگول، اپل، میڑچل، بنڈلہ گوڑہ، کونڈاپور اور ابراہیم پٹنم ہی میں ہیں۔ کئی درخواست گذار جو ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کیلئے ٹسٹ (ٹرائیل) دینا چاہتے ہیں ٹسٹ ٹرئیکس پہنچنے کیلئے 20 کیلو میٹر کا سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ ذرائع کے مطابق ناگول ٹسٹ ٹرئیک، پولیس ٹرانسپورٹ آرگنائزیشن کی زمین پر ہے اور اگر آر ٹی اے سے اس مقام کو جلد خالی کرنے کیلئے کہا جاتا ہے تو اس پر کوئی حیرت نہیں ہوگی۔ 2003ء تک سکندرآباد آر ٹی اے آفس جو ترملگیری میں واقع ہے، میں ٹسٹ ٹرئیک ہوا کرتا تھا لیکن بعد میں اسے بند کردیا گیا ۔اگر اب کوئی درخواست گذار، خیریت آباد، پنجہ گٹہ، امیرپیٹ، عطاپور یا راجندر نگر میں ہو تو اسے ٹسٹ کیلئے کنڈا پور یا ناگول جانا ہوگا۔ اسی طرح سکندرآباد آر ٹی اے آفس کے قریب رہنے والوں کو ٹسٹ کیلئے اپل یا ناگول جانا ہوگا۔ زیادہ تر آر ٹی اے دفاتر میں اسی طرح کی صورتحال ہے جس میں درخواست گذار کو ڈرائیونگ ٹسٹ کیلئے دور جانا پڑ رہا ہے۔ نیز بارش میں کئی ڈرائیونگ ٹسٹ ٹریکس کی حالت خراب ہوگئی ہے جس کی وجہ ٹسٹ دینے والوں کیلئے کافی مشکل پیش آرہی ہے۔ کئی ٹرئیکس پر کوئی مناسب سائن بورڈس نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ ٹسٹ دینے کیلئے آنے والوں کیلئے کوئی سہولتیں نہیں ہیں جیسے ٹائلیٹس اور پینے کے پانی کی دستیابی۔ بعض صبح 9 اور 10 بجے سلاٹس بک کرتے ہیں تاہم اکثر عہدیدار 11 بجے کے بعد ہی آتے ہیں۔ اس وقت تک درخواست گذاروں کو کوئی سہولتوں کے بغیر انتظار کرنا پڑتا ہے۔ تلنگانہ آٹو اینڈ موٹر ویلفیر یونین کے جنرل سکریٹری ایم دیانند نے کہا کہ قاعدہ کے مطابق ٹسٹ ٹرئیک قریبی مقام پر ہونا چاہئے جو سرکاری اراضی پر یا دفاتر کے احاطہ میں ہو۔ انہوں نے کہا کہ ’’ڈرائیونگ ٹسٹ ٹرئیکس کو بہتر حالت میں رکھنے پر توجہ نہیں دی جارہی ہے ان کی صحیح دیکھ بھال نہیں کی جارہی ہے جس کی وجہ وہ خستہ حالت کے شکار ہوگئے ہیں۔ کم از کم اب آر ٹی اے کو ٹریکس کی نگرانی کرنی چاہئے اور انہیں بہتر بنائے رکھنے پر توجہ دینی چاہئے۔