تلنگانہ میں تقریباً ا یک لاکھ نااہل پینشنرس کی نشاندہی

   

سرکاری خزانے پر ڈاکہ
40 ہزار مردہ پنشنرس کو رقمی اجرائی، جعلی آدھار اور فرضی پتے ، براہ راست تصدیقی مہم میں انکشاف

حیدرآباد ۔23 ۔ جون (سیاست نیوز) تلنگانہ میں آسرا پنشن اسکیم میں ایک سنسنی خیز اور چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے ۔ ریاست میں ہزاروں ایسے لوگوں کو پنشن دی جارہی ہے جو یا تو اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں یا پھر لاپتہ ہیں۔ غربت کے خاتمہ کی ریاستی تنظیم (SERP) کی جانب سے ایک خصوصی لائیو تصدیق سروے میں اب تک 93,624 نااہل پنشنرس کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے نام پر سرکاری فنڈز باقاعدگی سے جاری ہورہے تھے ۔ حکومت کو پنشن کی تقسیم میں بڑے پیمانہ پر بے ضابطگیوں کی شکایتیں موصول ہوئی تھیں جس کے بعد ’’سرف‘‘ (SERF) نے ایک خصوصی موبائل ایپ تیار کر کے گزشتہ ماہ کے اوائل سے گھر گھر جاکر تصدیقی مہم شروع کی تھی ۔ یہ سروے 22 جون کو مکمل ہوگیا ہے ۔ ریاست بھر میں جملہ 42 لاکھ پنشن مستفدین میں سے 19,04,293 افراد ایسے ہیں جو براہ راست بینک کھاتوں کے ذریعہ پنشن حاصل کرر ہے ہیں۔ سرف ایپ کے ذریعہ ولیج سکریٹریز اور بل کلکٹرس نے مستفدین کے گھروں پر جاکر لائیو تصدیق کی ہے ۔ نااہل قرار دیئے گئے پنشنرس کی تفصیلات میں 40,751 ایسے پنشنرس ہیں جن کا انتقال ہوچکا ہے لیکن پنشن جاری تھی ۔ 41,689 ایسے مستفدین ہیں جن کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ 11,184 افراد کا غلط آدھار کارڈ ہے جس کو بوگس یا مشکوک شناختی کارڈ تصور کیا جارہا ہے۔ 3,475 ایسے افراد ہیں جو دوسری ریاستوں کو منتقل ہوچکے ہیں ۔ اس لائیو تصدیقی مہم میں ابھی تک 93,624 جملہ نااہل پنشنرس کی نشاندہی ہوئی ہے ۔ ایک طرف جہاں دیہاتوں اور شہروں میں نااہل لوگوں کو فہرست سے خارج کرنے کیلئے یہ مہم چلائی جارہی ہے ، دوسری طرف مستحق بزرگ افراد ، معذؤرین اور خواتین کی جانب سے نئے سرے سے نام رجسٹر وانے کیلئے بڑے پیمانہ پر درخواستیں موصول ہورہی ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق موجودہ سروے کے مکمل ہوتے ہی تمام نااہل اور فرضی ناموں کو مستقل طور پر بلاک کردیا جائے گا ۔ اس کے بعد حکومت آئندہ ماہ جولائی کے پہلے ہفتہ سے نئے اور حقیقی مستحقین کے انتخاب کا عمل باقاعدہ طور پر شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ بجٹ کا صحیح فائدہ صرف مستحقین تک پہنچ سکے۔ 2/k