محمد علی شبیر کا احتجاج، چیف منسٹر سے معذرت خواہی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
حیدرآباد۔/10 اگسٹ، ( سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے تلنگانہ حکومت کی جانب سے یوم آزادی تقاریب کے سلسلہ میں جاری کردہ سرکاری اشتہار میں مسلم مجاہدین آزادی کو نظرانداز کرنے پر چیف منسٹر کے سی آر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت نے 8 اگسٹ کو تمام اخبارات میں سوتنتر بھارت وجرو اتسوالو کے ضمن میں اشتہارات شائع کئے۔ اشتہار میں کئی مجاہدین آزادی کی تصاویر شامل کی گئیں لیکن ایک بھی مسلم مجاہد آزادی کی تصویر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ملک کی آزادی کیلئے جدوجہد کرنے اور اپنی جانیں قربان کرنے والے مجاہدین کی مذہب کی بنیاد پر شناخت کرنا درست نہیں ہے لیکن سرکاری اشتہار میں جب مخصوص مجاہدین آزادی کی تصاویر کو شامل کیا تو پھر ان میں مسلم مجاہدین آزادی بھی شامل کئے جانے چاہیئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان چھوڑ دو تحریک کی یاد میں یہ اشتہار جاری کیا گیا تھا لیکن اس میں مولانا ابوالکلام آزاد کی تصویر شامل نہیں ہے جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ جدوجہد آزادی میں صرف کیا۔ ہندوستان چھوڑدو تحریک کے دوران مولانا آزاد کو دیگر سینئر کانگریس قائدین کے ساتھ 1942 سے 1945 تک جیل کی سزاء دی گئی۔ محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے سی آر مسلم طبقہ کو پسند نہیں کرتے جس کا اظہار کئی مرتبہ ہوچکا ہے۔ کے سی آر حکومت اقلیتوں اور ان کے اداروں کو مسلسل نشانہ بنارہی ہے۔ 2014 سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ چیف منسٹر نے 11 نومبر کو ہر سال مولانا آزاد کی یوم پیدائش تقاریب کے انعقاد میں کبھی بھی شرکت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں مجاہدین آزادی نے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے اور ان کی تصاویر کو نظرانداز کرتے ہوئے اہمیت کو گھٹایا نہیں جاسکتا۔ سرکاری
اشتہار میں مسلم مجاہد آزادی کو نظرانداز کرنے سے چیف منسٹر کی فرقہ پرست ذہنیت بے نقاب ہوگئی۔ اگر یہ اقدام غلطی کا نتیجہ ہے تو حکومت کو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتے ہوئے معذرت کرنا چیف منسٹر کی عادت بن چکی ہے۔ ریاست میں6 مساجد کو غیر قانونی طور پر شہید کیا گیا۔ شمس آباد میں 2 اگسٹ کو مسجد خواجہ محمود کو شہید کیا گیا۔ مسلمانوں کے احتجاج کے بعد دوبارہ تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محمد علی شبیر نے سرکاری اشتہار میں مسلم مجاہدین آزادی کو نظرانداز کرنے پر چیف منسٹر سے معذرت خواہی کرنے کا مطالبہ کیا ۔ محمد علی شبیر نے اس سلسلہ میں چیف منسٹر کے سی آر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس کی نقل تقاریب کمیٹی کے صدرنشین ڈاکٹر کے کیشوراؤ ایم پی کو روانہ کی ہے۔ر