غیر ملکی قرار دیئے گئے مسلمانوں کو حراستی مراکز میں قید رکھا جائے گا، غیر مسلموں کی رہائی ممکن
حیدرآباد۔12فروری(سیا ست نیوز) آسام میں این آر سی کا ڈاٹا غائب ہوچکا ہے! جی ہاں این آرسی کی تفصیلات جو کہ اب تک عوامی پورٹل پر موجود تھیں اب وہ نہیں ہیں اور حکومت کی جانب سے کہا جار ہا ہے کہ کلاؤڈ ڈاٹا کی مدت ختم ہونے کے سبب یہ تفصیلات ویب سائٹ سے ہٹ چکی ہیںاور حکومت یہ کہنے کے موقف میں نہیں ہے کہ این آرسی کے دوران حاصل کیا گیا ڈاٹا محفوظ ہے یا نہیں ۔ حکومت ہند کے محکمہ داخلہ کی جانب سے اس بات کی توثیق کی جاچکی ہے کہ این آر سی کے ذریعہ حاصل کی گئی تفصیلات پر مبنی ڈاٹا کلاؤڈ میں محفوظ کیا گیا تھا لیکن معاہدہ کی مدت ختم ہوجانے کے سبب وہ تلف ہوچکا ہے ۔ این آر سی کے دوران حاصل کی گئی تفصیلات کی مکمل معلومات اگر اس طرح سے تلف ہوجاتی ہیں تو اس کا سنگین نقصان کسے ہوگا اور کن لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کی جا رہی ہے بلکہ کہا جا رہاہے کہ ڈاٹا کا تلف ہونا حکومت کے لئے تکلیف کا سبب ہے۔ این آر سی کے دوران جن 19 لاکھ افراد کو غیر ملکی قرار دیا گیا تھا اور انہیں فرضی رائے دہندہ کے زمرہ یا حراستی کیمپ میں رکھا گیا تھا اب انہیں از سر نو اپنی تفصیلات پیش کرنی پڑیں گی ! جی نہیں اس این آر سی کے دوران جن لوگوں کو غیر ملکی قرار دیا گیا تھا ان میں 14لاکھ سے زائد غیر مسلم کی نشاندہی ہوئی تھی اور قریب 5لاکھ مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دیا گیا تھااور اس کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی اس میں یہ کہا جانے لگا تھا کہ این آر سی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن حکومت نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں شہریت ترمیمی قانون کو منظور کرواتے ہوئے غیر مسلموں کو ہندستانی شہریت کی راہ ہموار کردی تھی اور چند یوم قبل اس بات کی بھی اطلاعات منظر عام پر آئی تھیں کہ مرکزی حکومت نے ریاستی حکومت کو اس بات کے احکام جاری کئے ہیں کہ وہ حراستی کیمپوں میں موجود غیر مسلموں کی رہائی کے اقدامات کریں اور مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں ہی رکھا جائے ان احکامات کی اجرائی کے چند یوم بعد ہی یہ اطلاع منظر عام پر آئی ہے کہ ریاست آسام میں این آر سی میں جمع کی جانے والی مکمل تفصیلات تلف ہوچکی ہیں اور ایسا تکنیکی خرابی کے سبب ہوا ہے ۔ ماہرین کا کہناہے کہ اب جو صورتحال پیدا ہوگی اس سے مسلمانوں کو شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ جب حکومت کی جانب سے غیر مسلموں کو رہا کرنے کے احکام دیئے جاچکے ہیں اور مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے تو اب جو غیر مسلم رہا کئے جائیں گے انہیں صرف اپنے بنگلہ دیشی‘ پاکستانی اور افغانستان سے ہونے کا دعوی پیش کرنا ہوگااور وہ ہندستانی شہریت کے حقدار ہوتے چلے جائیں گے جبکہ ان مسلمانوں کا مسئلہ حل نہیں ہوگا جن کے نام این آر سی میں نہیں آپائے ہیں۔مرکزی وزارت داخلہ کے ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ ڈاٹا کا حفاظت اور دیکھ بھال کا کنٹراکٹ آئی ٹی ادارہ ویپرو کے پاس تھا جو ختم ہوچکا ہے جس کے سبب فی الحال اس پورٹل کی دیکھ بھال نہیں ہورہی تھی۔