آسام میں چلنے والے مدارس کا سروے

   

گوہاٹی: آسام حکومت نے ریاست میں چلنے والے چھوٹے مدارس کو بڑے مدارس کے ساتھ ضم کرنے کے مقصد سے سروے کا کام شروع کر دیا ہے۔ پولیس ڈائریکٹر جنرل بھاسکر جیوتی مہانتا نے کہا کہ خطرات کو کم کرنے کیلئے چھوٹے مدارس، جو مبینہ طور پر بنیاد پرستی کیلئے استعمال ہو رہے ہیں، کو بڑے مدارس میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ مہنت نے کہا کہ تین کلومیٹر کے دائرے میں صرف ایک مدرسہ ہوگا اور 50 یا اس سے کم طلبہ والے مدارس کو قریبی بڑے مدارس کے ساتھ ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ریاست میں ایسے تمام مدارس کا ڈیٹا بیس تیار کرنے کیلئے سروے کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آسام میں مسلمانوں کی بڑی آبادی ہے اور ریاست بنیاد پرستوں کا فطری ہدف رہی ہے اور اس طرح کی سرگرمیاں عام طور پر چھوٹے مدارس میں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی پولیس نے دہشت گرد تنظیموں انصاراللہ ٹیم (اے بی ٹی) اور القاعدہ برصغیر ہند میں (اے کیو آئی ایس) کے نو ماڈیولز کا پردہ فاش کیا ہے اور گزشتہ سال 53 مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔