آسام کے دھوبری میں درگا پوجا تک اشرار کودیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم

   

گوہاٹی۔ 26 اگست (یو این آئی) آسام کے وزیر اعلی ہمنت بسوا شرما نے منگل کے روز کہا کہ ضلع دھوبری کے لئے جاری کردہ اشرار کو ’’دیکھتے ہی گولی مارو‘‘ کا حکم درگا پوجا کی تقریبات کے اختتام تک نافذ رہے گا۔ ہمنت شرما نے میڈیا کے نمائندوں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ حکم کے نافذ ہونے کے بعد سے دھوبری میں تشدد کا کوئی تازہ واقعہ نہیں ہوا ہے ، لیکن اس ہدایت کو قبل از وقت واپس نہیں لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہجو بھی دھوبری میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کرے گا، اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سناتن دھرم کے لوگ یہاں اقلیت میں ہیں اور انتہا پسندوں سے ان کی حفاظت ہماری ترجیح ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا نہیں بلکہ آئندہ تہوار کے موسم میں ممکنہ بدامنی کو روکنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکم احتیاطی اقدام کے طور پر نافذ رہے گا۔ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ درگا پوجا پرامن طریقے سے منایا جائے ۔ معلوم ہوا ہے کہ آسام-بنگلہ دیش سرحد پر واقع ضلع دھوبری تاریخی طور پر فرقہ وارانہ کشیدگی اور دراندازی کے مسائل سے دوچار رہا ہے ۔ اس ضلع کی آبادیاتی ساخت منفرد ہے ۔ یہاں ہندو اقلیت بڑی مسلم آبادی کے ساتھ رہتی ہے ۔ یہاں اکثر فرقہ وارانہ جھگڑے سامنے آتے رہتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں، ریاستی حکومت نے آسام میں فرقہ پرستی کے معاملے پر سخت موقف اپنایا ہے ۔ آسام حکومت نے بارہا خبردار کیا ہے کہ ’’انتہا پسند قوتیں‘‘ مقامی مسائل کا فائدہ اٹھا کر بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ریاستی حکومت نے حفاظتی اقدام کے طور پر اس اقدام کا دفاع کیا ہے ۔