کانووکیشن میں گورنر جگدیش مکھی نے گولڈ میڈل پیش کیا
حیدرآباد ۔ 4 فبروری (سیاست نیوز) آسام کے ایک قیدی نے پوسٹ گریجویشن (پی جی) کے امتحان میں ٹاپ کرتے ہوئے گورنر سے گولڈ میڈل حاصل کیا ہے۔ گوہاٹی کے سنٹرل جیل میں زیردریافت قیدی ہے جو 2019ء میں الفا کے حکم پر گوہاٹی میں گرینیڈ دھماکہ میں مبینہ طور پر ملوث تھا، نے ریاستی اوپن یونیورسٹی کے تحت پی جی ایم اے امتحان میں ٹاپ کیا ہے اور اسے یونیورسٹی کے چانسلر و گورنر نے ایک کانووکیشن میں گولڈ میڈل عطا کیا ہے۔ 29 سالہ سنجیب تعلق دار سابق طلبہ یونین لیڈر ہے، جنہیں 2019ء میں ہونے والے دھماکہ کے سلسلہ میں دیگر تین افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا جس میں 12 افراد زخمی ہوئے تھے۔ اسی سال کیس این آئی اے کو منتقل کردیا گیا ہے جس نے سنجیب تعلق دار پر سازش کا الزام عائد کیا ہے۔ غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے والے اصل ملزم کی مدد کرنے کا بھی ان پر الزام ہے۔ سنجیب جیل میں رہتے ہوئے کرشنا کاشا پانڈیک اسٹیٹ اوپن یونیورسٹی (KKHSOU) سے ماسٹرس کی تعلیم مکمل کیا ہے۔ ریاست آسام کے ہر جیل میں یونیورسٹی کے مراکز ہیں۔ گورنر آسام جگدیش مکھی نے جمعرات کو منعقدہ کانوکیشن میں 71 فیصد نشانات حاصل کرنے والے سنجیب تعلق دار کو گولڈ میڈل پیش کیا۔ سنجیب گوہاٹی یونیورسٹی سے باٹنی میں ایم فل کررہا تھا۔ جب اسے گرفتار کیا گیا سنجیب اپنا ایم فل مکمل نہیں کرپایا کیونکہ انہیں جیل سے لیباریٹری کی سہولیات تک رسائی نہیں تھی۔ یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران وہ پوسٹ گریجویٹ طلباء یونین کے صدر تھے۔ گوہاٹی سنٹرل جیل کے ایک سابقہ جیلر نے کہا کہ سنجیب ہمیشہ حصول تعلیم کا خواہشمند تھا۔ (KKHSOU) سے جیو انفارمیٹکس میں پی جی سرٹیفکیٹ کیلئے حاضر ہوا تھا۔ سنجیب کی بہن ڈولی نے بتایا کہ گوہاٹی ہائیکورٹ ان کی ضمانت کی درخواست پر مزید چار ماہ میں سماعت کرے گی۔ ان میں سے ایک ملزم پرکاش راجکونور کو ہائیکورٹ نے حال ہی میں ضمانت دی ہے۔ن