ویانا ۔ 5 جولائی (ایجنسیز) آسٹریا نے جمعرات کو 15 سالوں میں پہلی بار ایک شامی باشندہ کو ملک بدر کر دیا۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آسٹریا اور پڑوسی جرمنی’مجرموں‘ کو جنگ زدہ ملک اور افغانستان بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آسٹریا کی وزارت داخلہ نے جمعرات کو کہا کہ اس نے 15 سال سے زیادہ عرصہ قبل شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے پہلی مرتبہ کسی شامی کو اس کے وطن بھیج دیا ہے۔ ملک بدر کیے گئے 32 سالہ شخص کو استنبول کے راستے دمشق پہنچایا گیا۔ اگرچہ اس شخص کا نام نہیں بتایا گیا اور نہ ہی اس کے مخصوص جرم کا حوالہ دیا گیا، تاہم آسٹریا کے وزیر داخلہ گیرہارڈ کارنر نے کہا کہ اس شخص کو نومبر 2018 میں سزا سنائی گئی تھی جس کے بعد اس کا پناہ گزین کا درجہ ختم کر دیا گیا تھا۔ کارنر نے صحافیوں کو بتایا کہ ایک شامی مجرم کو آج آسٹریا سے شام، خاص طور پر دمشق جلا وطن کر دیا گیاکہ انہوں نے مزید کہا،’’مجھے یقین ہے کہ یہ ایک انتہائی اہم اشارہ ہے کہ آسٹریا ایک سخت، مشکل، زبردست لیکن منصفانہ پناہ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس میں دوسروں کو خطرے میں ڈالنے والے مجرموں کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔