کینبرا : آسٹریلیائی قانون ساز نے پارلیمنٹ میں اپنے اوپر ہونے والے “جنسی حملے” کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ عمارت خواتین کے کام کرنے کے لیے “محفوظ جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے ایک قدامت پسند سینیٹر پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔ اس قدامت پسند سینیٹر کو اس معاملے پر لبرل پارٹی نے معطل کر دیا تھا۔آزاد خاتون سینیٹر لیڈیا تھورپ نے اشک بہاتے سینیٹ میں ایک تقریر میں کہا کہ ان پر جنسی تبصرے کیے گئے اور انہیں نامناسب طریقے سے چھوا گیا ہے۔تھورپ نے ایک ساتھی سینیٹر “ڈیوڈ فین” پر جنسی طور پر حملہ کرنے کا الزام لگایا۔ تھورپ نے جمعرات کو اپنے الزامات کا اعادہ کیا اور بتایا کہ مجھے پارلیمانی سزا کی دھمکی کے تحت اپنا بیان واپس لینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ڈیوڈ فین نے کہا کہ ان الزامات نے مجھے تباہ کردیا اور انتہائی تکلیف پہنچائی ہے۔ انہوں نے کہا یہ الزامات بالکل غلط ہیں۔ ان الزامات کی وجہ سے لبرل پارٹی نے فین کی رکنیت معطل کر دی۔ تھورپ نے کہا کہ فین نے اس معاملے میں وکلاء کو شامل کیا ہے اور پارلیمانی قواعد سے گزرنا آسان بنانے کے لیے مجھے اپنے کیس میں اصلاح کرنا پڑی۔تھورپ نے قانون سازوں سے کہا کہ میں دفتر کے دروازے سے باہر جانے سے ڈرتی تھی، میں دروازہ تھوڑا سا کھولتی تھی اور اس بات کو یقینی بناتی تھی کہ جانے سے پہلے جگہ خالی ہو۔ جب بھی میں پارلیمنٹ آتی تھی تو سمجھتی تھی کہ میرے ساتھ حفاظت کے لیے کسی کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔میں جانتی ہوں کہ اور بھی لوگ ہیں جو اسی طرح کے تجربے سے گزرے ہیں اور انہوں نے اپنے کیریئر کے مفاد میں اس کے بارے میں بات نہیں کی ہے۔