اسکول فیس ، پکوان گیس ، برقی چارجس ، خوردنی تیل ، پٹرول ، ڈیزل ، دالیں ، ترکاری سب مہنگے
حیدرآباد ۔ 23 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : دو سال کے دوران ہر گھر کے بجٹ میں 60 تا 80 فیصد کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ کورونا بحران سے پہلے معیشت تباہ ہوئی کئی لوگ ملازمتوں سے محروم ہوئے لاک ڈاؤن کے باعث ٹرانسپورٹ نظام معطل رہنے کی وجہ سے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ، مارکٹ میں اشیاء ضروریہ کی عارضی قلت پیدا کرتے ہوئے قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا گیا ۔ لاک ڈاؤن کے ختم ہونے اور کورونا سے حالات بحال ہونے کے بعد اضافہ شدہ قیمتوں میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کے ساتھ ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافہ ہوجانے کا بہانہ کرتے ہوئے دوبارہ قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ۔ اس طرح روس اور یوکرین کی جنگ کا بھی غریب خاندانوں پر بہت زیادہ اثر پڑا ہے ۔ بالخصوص پکوان میں استعمال ہونے والی خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ۔ تعلیمی اداروں کی کشادگی کے بعد طلبہ کی اسکول فیس میں اضافہ ہوگیا ۔ ساتھ ہی یونیفارم ، کتابیں ، شوز ، اسکول بیاگس ، اسکول ٹرانسپورٹ چارجس میں بھی زبردست اضافہ ہوگیا ۔ ہر سال مکانات کے کرایوں میں 5 تا 10 فیصد کے لحاظ سے اضافہ ہوتا ہے ۔ گھر کرایہ پر لینا ہو تو اڈوانسڈ میں 2 تا 3 ماہ کا کرایہ مالک مکان کو ادا کرنا پڑتا ہے ۔ گھر کے برقی چارجس میں اضافہ کردیا گیا ہے ۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے گاڑیاں رکھنے والوں پر ماہانہ 2 تا 5 ہزار روپئے کا اضافی بوجھ عائد ہوگیا ہے ۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے بھی مہنگائی سے محفوظ نہیں ہے ۔ تلنگانہ آر ٹی سی نے مختلف سیس کے نام پر کرایوں میں اضافہ کردیا ہے ۔ آر ٹی سی بس پاسیس کی قیمتوں میں بھی 2 تا 3 گنا اضافہ کردیا گیا ہے ۔ طلبہ کے روٹ پاسیس کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے ۔ موسم گرما میں ہر سال چکن اور انڈوں کی قیمتوں میں کمی آتی تھی تاہم جاریہ سال سارے موسم گرما میں چکن اور انڈوں کی قیمتیں بڑی ہوئی رہی ۔ ساتھ ہی ترکاری کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ۔ ان دو سال کے دوران لوگوں کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ۔ مگر گھر کے بجٹ میں اضافہ ہوگیا جس کی وجہ سے کئی لوگ مقروض ہوگئے ہیں ۔ کئی لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئے ۔ چند لوگوں نے اپنے روزمرہ کے اخراجات میں کٹوتی کرلی ہے کورونا بحران کے بعد عوام کی معاشی صورتحال مستحکم نہیں ہوئی مگر اخراجات میں اضافہ ہوگیا ۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں فی لیٹر 70 روپئے سے 100 روپئے کے ہند سے کو عبور کرچکی ہیں ۔ پکوان گیس ، دالیں ، نمک ، شکر ، خوردنی تیل ، دودھ کے علاوہ بیشتر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں 10 تا 70 فیصد کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ جس سے ہر گھر کے ماہانہ بجٹ میں 8 تا 16 ہزار روپئے کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ اگر بڑے خاندان ہیں تو ان پر مزید مالی بوجھ کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ پہلے 200 روپئے میں ایک ہفتہ کی ترکاری دستیاب ہوجاتی تھی اب ایک ہفتہ کی ترکاری کے لیے 500 روپئے خرچ ہورہے ہیں ۔۔ ن