آم کی یہ قسم 2.5 تا 3 لاکھ روپئے فی کیلو گرام

   

کیوں فروخت ہوتی ہے، اس کا مزہ کیسا ہوتا ہے؟
حیدرآباد 2 جون (سیاست نیوز) آم موسم گرما کا خاص پھل ہے، پھلوں کا بادشاہ، آم عام آدمی کا مرغوب پھل ہے جسے ہر کوئی استعمال کرتا ہے۔ عموماً آم کی قیمت 100 تا 200 روپئے فی کیلو گرام ہوتی ہے لیکن آم کی ایک جاپانی قسم جو ملک کے بعض مقامات پر ہوتا ہے کی قیمت 2.5 لاکھ روپئے فی کیلو گرام ہوتی ہے۔ میازاکی آم جو ہندوستان میں بعض فارمس میں ہوتا ہے جاپان میں ایک انتہائی مشہور و مقبول پھل ہے۔ اس عام کی نمائش گزشتہ سال سیلیگوری اور رائے پور میں مینگو فیسٹیول میں کی گئی تھی۔ نیشنل ہارٹیکلچر بورڈ کے مطابق ہندوستان میں ہر گرما میں 1500 قسم کے آم کی پیداوار ہوتی ہے لیکن میازاکی آم ملک میں بہت ہی کم دیکھا جاتا ہے۔ میازاکی آم، جاپان کے کیوشو صوبے کے میازاکی شہر کی پیداوار ہے اور اس کی تاریخ 1980 ء کے دہے کی ہے جب میازاکی یونیورسٹی کے ریسرچرس کے ایک گروپ نے مقامی کسانوں کے اشتراک سے اس پھل کو ڈیولپ کیا۔ لیکن بعض رپورٹس کے مطابق یہ آم بہت پہلے 1870 ء میں جاپان میں پایا جاتا تھا۔ ہرے یا زرد آم کے برعکس میازاکی آم کا چھلکا اس کے پکنے پر سرخ ہوجاتا ہے۔ یہ آم اتنا مہنگا کیوں ہوتا ہے؟ ایک بزنس ان سائیڈر رپورٹ کے مطابق میازاکی میں ہونے والا یہ آم ارون آم کی قسم ہے جسے اکثر ’’ایپل مینگو‘‘ کہا جاتا ہے کیوں کہ وہ پکنے پر لال ہوجاتے ہیں اور ان کا مزہ بہت لذیذ ہوتا ہے اور ان میں دیگر خصوصیات بھی ہوتی ہیں۔ اس آم کی ہندوستان میں کاشت پہلے اڈیشہ اور بہار میں کی گئی۔ فارمرس نے جاپان سے اس آم کے پودوں کو لاکر یہاں اس کی فصل اُگائی لیکن بہت زیادہ قیمت ہونے کی وجہ اس آم کے چند ہی خریدار تھے۔ ابتداء میں اس آم کی قیمت دس ہزار روپئے فی کیلو گرام تھی۔ بعد میں مہاراشٹرا، آندھراپردیش اور تلنگانہ میں بھی باغ مالکین نے ان آموں کی کاشت شروع کی اور اس کی قیمتیں کم ہوئیں لیکن بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اصل جاپانی آم کا جو مزہ اور شکل ہوتی ہے وہ ہندوستان میں کاشت کئے جانے والے اس قسم کے آم میں نہیں ہوتی ہے۔