آندھراپردیش میں اسمبلی و پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں تیز

   

تلگودیشم کی مقابلہ کیلئے حکمت عملی، چندرابابو سے ماہر سیاست و منصوبہ بندی پرشانت کشور کی ملاقات

حیدرآباد۔24۔ڈسمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی کے بعد سے ہی پڑوسی ریاست آندھراپردیش میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے لگی ہیں اور اپوزیشن تلگودیشم پارٹی عام انتخابات کے ساتھ منعقد ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں منظم طریقہ کے ساتھ مقابلہ کی حکمت عملی کی تیاری میں مصروف ہے ۔ اسمبلی انتخابات 2019 میں وائی ایس آر سی پی کے ساتھ کام کرنے والے ماہر سیاست و منصوبہ بندی پرشانت کشور کی صدر تلگو دیشم مسٹر این چندرا بابو نائیڈوسے ملاقات کے ساتھ ہی کئی طرح کی قیاس آرائیاں کی جانے لگی ہیں اور کہا جار ہاہے کہ آندھراپردیش اسمبلی کے آئندہ انتخابات میں پرشانت کشور چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی کے بجائے تلگو دیشم پارٹی کے لئے خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ تلگودیشم سربراہ مسٹر نارالوکیش کے ساتھ پرشانت کشور کے وجئے واڑہ پہنچنے کے بعد سے شروع ہونے والی ان قیاس آرائیوں کے دوران پرشانت کشور کی کمپنی آئی۔پیک کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ کے ذریعہ کی گئی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ 2019میں وائی ایس آر سی پی کے ساتھ کام کرتے ہوئے پارٹی کو کامیاب بنانے میں آئی ۔پیک نے جو کردار ادا کیا ہے وہی ذمہ داری اب بھی آئی ۔پیک کے پاس ہے اور آئندہ انتخابات میں بھی آئی۔ پیک وائی ایس آر سی پی کے لئے ہی کام کرے گی لیکن پرشانت کشور کی چندرابابو نائیڈو سے ملاقات اور دو یوم قبل کانگریس کے نظریات کی ستائش کے بعد کہا جا رہاہے کہ پرشانت کشور ملک کی مختلف ریاستوں میں حکومت کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی اتحاد ‘ جوڑ توڑ کی سیاست میں بھی سرگرم ہونے لگے ہیں۔ پرشانت کشور جو کہ خصوصی طیارے سے وجئے واڑہ پہنچے تھے نے اپنی واپسی کے موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تلگودیشم سربراہ مسٹر این چندرابابو نائیڈو سے ان کی یہ ملاقات خیرسگالی ملاقات تھی ۔مسٹر نائیڈو کی جیل سے ضمانت پر رہائی کے بعد انہیں حاصل ہونے والی عوامی ہمدردیوں کو ختم کرنے کی کوشش کے طور پر وائی ایس آر سی پی کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کی عوام کی جانب سے تائید نہ کئے جانے سے پریشان وائی ایس آر سی پی نے مختلف حربے اختیار کرتے ہوئے اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی اپنی کامیابی کے لئے صرف آئی ۔پیک پر انحصار کرنے کے بجائے ریاست کے عوام کے درمیان پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ عوام میں تلگودیشم کی مقبولیت میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔ تلگودیشم پارٹی ذرائع کے مطابق پارٹی نے انتخابی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے اور برسراقتدار جماعت کے خلاف جاری مہم میں آئندہ دنوں کے دوران مزید شدت پیدا کی جائے گی۔ تلگو فلم ساز رام گوپال ورما جو کہ تلگودیشم پارٹی کے سخت مخالفین میں شمار کئے جاتے ہیں کی جانب سے گذشتہ یوم عوامی جلسہ عام منعقد کیاتھا لیکن اس جلسہ کی ناکامی کا بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر خوب مذاق اڑایا جانے لگا ہے۔م