امراوتی کی ترقی کیلئے 2733 کروڑ، 2 نئے انجینئرنگ کالجس، 8 جنوری کو وزیراعظم کا دورہ
حیدرآباد 2 جنوری (سیاست نیوز) آندھراپردیش کابینہ کا اجلاس چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں 14 اہم اُمور کو منظوری دی گئی۔ آندھراپردیش کے دارالحکومت امراوتی کی ترقی کے لئے کابینہ نے 2733 کروڑ کی منظوری دی ہے۔ امراوتی میں 2 انجینئرنگ کالجس کے قیام کو کابینہ نے منظوری دی۔ کابینہ نے عمارتوں کی تعمیر کی اجازت اور لے آؤٹ کی منظوری کے اُمور میونسپلٹیز کے حوالہ کرنے سے متعلق ترمیمی قانون کے مسودہ کو منظوری دی ہے۔ تروپتی میں واقع ای ایس آئی ہاسپٹل کو 50 بستروں سے بڑھاکر 100 بستروں میں اپ گریڈ کرنے کی منظوری دی گئی۔ پیٹھا پورم ایریا ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے لئے 19 اضافی عہدوں کی کابینہ نے منظوری دی۔ گنٹور ضلع کے پرتی پاڈو منڈل میں 6 ایکر اراضی پر 100 بستروں کا ای ایس آئی سی ہاسپٹل تعمیر کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر چندرابابو نائیڈو نے ریاستی وزراء کو ہدایت دی کہ سرکاری اسکیمات پر شفافیت کے ساتھ عمل آوری کو یقینی بنائیں۔ کابینہ نے نئی صنعتوں کے قیام اور نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے اُمور کا بھی جائزہ لیا۔ نیلور ضلع میں 9686 کروڑ سے بی پی سی ایل ریفائنری کے قیام کو کابینہ نے منظوری دی ہے۔ ریاست میں کلین انرجی کے شعبہ میں 83 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری کو منظوری دی گئی۔ کابینی اجلاس کے بعد چیف منسٹر نے وزراء سے علیحدہ علیحدہ بات چیت کی اور وزیراعظم نریندر مودی کے امکانی دورے سے واقف کرایا۔ نریندر مودی 8 جنوری کو ویزاگ کا دورہ کریں گے۔ وہ ترقیاتی کاموں کا افتتاح اور دیگر کاموں کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ چیف منسٹر نے وزیراعظم کی آمد کے موقع پر مؤثر انتظامات کی وزراء کو ذمہ داری دی۔ آندھراپردیش کابینہ نے سوپر 6 اسکیمات کو منظوری دی ہے۔ آئندہ تعلیمی سال سے سرکاری اسکولوں کی کارکردگی بہتر بنانے سے متعلق اسکیمات کا آغاز ہوگا۔ چیف منسٹر نے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل ڈی ایس سی کے انعقاد کی ہدایت دی ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ عوام نے کافی توقعات کے ساتھ تلگودیشم کو اقتدار عطا کیا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اُترے۔ اُنھوں نے کہاکہ انتخابات کے موقع پر عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل این ڈی اے حکومت کی اوّلین ترجیح رہے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر پون کلیان نے کہاکہ مختلف اسکیمات کے بقایہ جات تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار کروڑ ہیں۔ معاشی کمزور موقف کے باوجود حکومت انتخابی وعدوں پر بہرصورت عمل کرے گی۔ 1