نائیڈو کے مقدمات کی فائیلوں کا تحفظ، ڈی جی پی اور چیف سکریٹری کی صدر تلگودیشم سے ملاقات
حیدرآباد۔/5 جون، ( سیاست نیوز) گورنر آندھرا پردیش جسٹس عبدالنذیر نے آندھرا پردیش اسمبلی کو تحلیل کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ دستور کی دفعہ 174 کے تحت ریاستی کابینہ کی سفارش پر اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلامیہ جاری کیا گیا۔ چیف منسٹر کے عہدہ سے وائی ایس جگن موہن ریڈی نے کل اپنا استعفی پیش کرتے ہوئے اسمبلی تحلیل کرنے کی گورنر سے سفارش کی تھی۔ آندھرا پردیش قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی اقتدار سے محروم ہوچکی ہے۔ 175 رکنی اسمبلی میں تلگودیشم کو 135 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی جبکہ اس کی حلیف جماعتوں جنا سینا اور بی جے پی کو علی الترتیب 21 اور 8 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی 11 نشستوں تک محدود ہوچکی ہے۔ تلگودیشم لیجسلیچر پارٹی کے اجلاس میں قائد کے انتخاب کے بعد ریاستی گورنر جسٹس عبدالنذیر تلگودیشم صدر چندرا بابو نائیڈو کو تشکیل حکومت کی دعوت دیں گے۔ اسی دوران نتائج کے فوری بعد سکریٹریٹ میں واقع ریاستی وزراء کے چیمبرس کا کنٹرول جی اے ڈی حکام نے حاصل کرلیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی وزراء کے نیم پلیٹس نکال دیئے گئے اور سرکاری محکمہ جات کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے تاکہ کسی بھی محکمہ سے فائیلوں کی منتقلی کو روکا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ انفارمیشن ٹکنالوجی ڈپارٹمنٹ پر حکام کی کڑی نظر ہے کیونکہ اس محکمہ کے ذریعہ سابق حکومت نے کئی پراجکٹس کا آغاز کیا تھا جن پر چندرا بابو نائیڈو نے اعتراض جتایا ۔ چندرا بابو نائیڈو کے خلاف درج مقدمات کی فائیلوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔صدر تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو کی سیکوریٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس ہریش کمار گپتا اور چیف سکریٹری جواہر ریڈی نے چندرا بابو نائیڈو سے ملاقات کی اور تقریب حلف برداری کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ اسی دوران آج صبح سے چندرا بابو نائیڈو کی قیامگاہ پر نومنتخب ارکان اسمبلی اور سینئر قائدین کا تانتا بندھ چکا ہے۔ چندرا بابو نائیڈو اور نارا لوکیش سے ملاقات کرتے ہوئے ارکان اسمبلی کابینہ میں شمولیت کی درخواست کررہے ہیں۔ نائیڈو سے ملاقات کرنے والوں میں بالا کرشنا ، این راما نائیڈو، جی رام موہن راؤ، وائی رام کرشنوڈو اور دیگر قائدین شامل ہیں۔ سابق ڈی جی پی آر وی ٹھاکر نے بھی چندرا بابو نائیڈو کو مبارکباد پیش کی۔1