آندھرا پردیش میں تلگودیشم ‘ بی جے پی اور جنا سینا میںاتحاد کا امکان !

   


چندرا بابو نائیڈو بی جے پی کیلئے لوک سبھا کے 12 اورا سمبلی کے 15 حلقے چھوڑنے کیلئے تیار
حیدرآباد 10 اکٹوبر(سیاست نیوز) پڑوسی آندھرا پردیش میں بی جے پی کو تلگو دیشم کی شکل میں طاقتور حلیف اور جنا سینا پارٹی کی شکل میں عوام پر اثرانداز حلیف مل چکی ہے۔ آئندہ انتخابات میں تلگو دیشم نے آندھراپردیش میں بی جے پی و جنا سینا کے ساتھ اتحاد میں مقابلہ کا فیصلہ کیا ہے تلگو دیشم اور دیگر سیاسی جماعتیں نشستوں کی تقسیم پر بھی آمادہ ہوچکی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ جنا سینا اور تلگودیشم کو بی جے پی سے قریب کرنے اور اتحاد پر آمادہ کرنے میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کا اہم کردار ہے۔ تلگودیشم آئندہ انتخابات میں بی جے پی کیلئے 12 لوک سبھا اور 15 اسمبلی نشستیں چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ جنا سینا کیلئے 25 اسمبلی نشستیں چھوڑنے بات چیت جاری ہے۔ امیت شاہ ‘ چندرا بابو نائیڈو کے علاوہ پون کلیان کے اتحاد سے آندھراپردیش میں وائی ایس آر سی پی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی حکمت عملی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ وزیر اعظم تبادلہ خیال کرچکے ہیں اور وائی ایس آر سی پی کی این ڈی اے میں شمولیت کے کوئی آثارباقی نہیں ہیں اسی لئے بی جے پی تلگو دیشم اور جنا سینا کی مدد کے ساتھ وائی ایس آر سی پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے اور این ڈی اے کی طاقت میں اضافہ کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ مبصرین کے مطابق آندھرا پردیش کو گذشتہ برسوں میں نقصانات اور حکومت کے موقف میںتلگو دیشم کی خاموشی اور مرکز پر تنقید نہ کرنے پر یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ بی جے پی اور تلگودیشم قریب آچکے ہیں لیکن اب جنا سینا بھی آندھراپردیش کو خصوصی موقف کے معاملہ میں مرکز کے رویہ پر خاموش ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ آندھراپردیش میں اس اتحاد کا حصہ جنا سینا بھی بن چکی ہے۔ تینوں کا مقابلہ وائی ایس آر سی پی کیلئے مشکل کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ جنا سینا میں پون کلیان کے حامیوں کی بڑی تعداد ہے اور آندھراپردیش میں وہ اثر رکھتے ہیں لیکن ان کے چاہنے والوں کو تلگو دیشم اور بی جے پی ووٹ میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تلگو دیشم اور بی جے پی اتحاد کے تلنگانہ کی سیاست پر بھی اثرات ہوں گے کیونکہ بی جے پی آندھراپردیش میں تلگو دیشم کے ساتھ ہوگی تو ظاہر ہے کہ تلنگانہ میں بھی دونوں متحدہ مقابلہ کریں گی اور دونوں کا ووٹ شئیر بھارت راشٹر سمیتی ( تلنگانہ راشٹرسمیتی ) کے ووٹ شئیر کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے ۔ جگن موہن ریڈی 2019کی کامیابی کے بعد سے مرکز کے ساتھ نرم رویہ اختیار کئے ہوئے تھے اور مرکزی کی بیشتر پالیسیوں کی تائید کرتے آئے ہیں لیکن اب مرکزی حکومت ان کے کٹر حریف چندرابابونائیڈو سے اتحاد کرچکی ہے جو کہ ان کے لئے خطرہ کی گھنٹی ہے۔م