یانگون: میانمار کی سیاسی رہنما آنگ سان سوچی کو ہیلی کاپٹر کے غلط استعمال اور لیز کے معاملے میں جمعہ کے روز سات سال قید کی سزا سنادی گئی ہے۔ وہ کرپشن کے پانچ مختلف الزامات کے تحت جیل میں ہیں۔ انہیں تازہ سزا ان کے خلاف اب تک آخری مقدمے میں سنائی گئی ہے۔فروری 2021 کی بغاوت کے بعد سے سوچی جیل میں ہیں اور انہیں جمعہ کے روز ایک بند دروازوں کی عدالت نے سزا سنائی ہے۔ اس سے قبل دسمبر 2021 مین بھی انہیں عدالت سے سزائے قید ہو چکی ہے۔ انہیں میانمار کی مقبول رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ایک نوبل انعام یافتہ سیاسی رہنما سوچی کو سنائی گئی تازہ سزا کے بارے میں حکومت کے کسی ترجمان سے تبصرہ حاصل نہیں کیا جاسکا ہے۔ تاہم مغربی ممالک نے اپنی سیاسی زندگی کا طویل عرصہ جیل میں گذرنے والی اس رہنما کو دی گئی سزا پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے۔آنگ سان سوچی کو جمعہ کے روز سنائی گئی سزا کے بعد سزائے قید میں ایک اور اضافہ ہے۔ ان پر عاید پانچ الزامات میں سے ہر ایک سزا زیادہ سے زیادہ سزا 15 سال ہے۔