پہلے 200 روپئے ادا کریں تب آپ کی شکایت قبول ہوگی ۔ نیا طریقہ کار ‘عوام پر بوجھ
حیدرآباد۔/15 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ملک بھر میں مثالی کہلانے والی تلنگانہ پولیس سے شکایت کرنے اب چارجس ادا کرنے ہونگے۔ یہ بات یقینا باعث تعجب لیکن درست ہے۔ شہریوں کو اب اپنے سیل فون کے سرقہ کی شکایت پولیس اسٹیشن میں کروانے سے قبل می سیوا سے رجوع ہونا پڑیگا حانکہ کسی شئے کے گم ہونے پر پولیس سے رجوع ہونا پڑتا ہے لیکن اب نئی شرائط کے مطابق پولیس اسٹیشن سے پہلے می سیوا سنٹر سے رجوع ہونا پڑے گا تب جاکر آپ کی شکایت کو پولیس اسٹیشن میں قبول کیا جائے گا۔ اگر سیل فون کے گم ہوجانے یا پھر چوری ہونے پر آپ راست پولیس اسٹیشن پہنچتے ہیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ پولیس اسٹیشن کے عہدیدار آپ کو می سیوا کا پتہ دیں گے اور می سیوا میں شکایت کے بعد آپ کو 200 روپئے ادا کرنے ہونگے اور اس کی رسید لے کر آپ کو پولیس اسٹیشن آنا ہوگاتب آپ کی شکایت کو قبول کیا جائے گا۔ ضروری نہیں کہ شکایت اور رقم کی ادائیگی کے بعد آپ کا فون آپ کو مل بھی جائے ۔ اس بات کی کوئی توگیارنٹی نہیں ہے۔ ایک طرف اس طریقہ کار کو شکایتوں کی کثرت اور دباؤ کم کرنے پالیسی بتایا جارہا ہے تو دوسری طرف حکومت کو آمدنی کا ایک ذریعہ بھی مانا جارہا ہے۔ ریاست میں تقریباً ہر پولیس اسٹیشن میں سیل فون گم یا چوری ہونے کی شکایتیں ہر دن ریکارڈ کی جاتی ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں شکایتوں کے سبب ایف آئی آر کی کثرت ہورہی ہے اور اس دباؤ کو کم کرنے اس طریقہ کو رائج کیا جارہا ہے۔ شہریوں کی جانب سے ادا کردہ 200 روپیوں میں 145 روپئے حکومت کے خزانہ میں پہنچیں گے جبکہ باقی رقم می سیوا کے چارجس کے تحت ادا ہوگی۔ وقت اور بدلتے حالات کے پیش نظر سیل فون زندگی کا حصہ بن گیا ہے اور موبائیل و سیل فون کے بغیر زندگی کے گذر بسر کا تصور اب نہیں رہا۔ ایسی صورت میں مصروفیت اور اخراجات کے لحاظ سے اکثر شہری دو تا تین سیل فون بھی استعمال کرتے ہیں اور شہریوں کی مصروفیات کا سارق فائدہ اٹھا کر آسانی سے رقم کمانے کی خاطر سیل فون سرقہ کرتے ہیں۔ اایسے میں قیمتی موبائیل فون کے سرقہ کی شکایت کرنا اب مشکل ہوگیا ہے۔ پولیس سے قبل می سیوا سے رجوع ہوکر شکایت کرنا اور پھر پولیس اسٹیشن پہنچنا ہوگا۔ ع