آیوروید زہریلے ماحول سے مقابلہ میں ایک نعمت :سونووال

   

نئی دہلی: آیوش کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے کہا کہ پوری دنیا میں آیوروید ادویات کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی دواؤں کے پودوں، کھیتی باڑی اور کاروبار کی ضرورت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور جوہری تابکاری، کیڑے مار ادویات اور زہریلے ماحول کے اس دور میں آیوروید ایک وردان کی طرح ہے ۔سونووال نے جمعہ کو پنچکولہ میں آٹھویں آیوروید ڈے کی تقریب میں کہا کہ مسلسل کوششوں سے آیوش کی وزارت نے پور ے ملک میں آٹھ ہزار سے زیادہ صحت مراکز قائم کیے ہیں۔ آیوش سیکٹر کی خدمات کی فراہمی کو مزید مضبوط بنانے کیلئے آیوش گرڈ پروجیکٹ شروع کیا گیا اور اسے مضبوط بنانے کے انتظامات کیے گئے ۔ عالمی پھیلاؤ کی وجہ سے پوری دنیا میں ادویاتی پودوں کی کاشت کی ضرورت تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ سونووال نے کہا کہ آیوروید ڈے کی عالمی مہم ‘ایک صحت کیلئے آیوروید’ کے پیغام اور جی-20 اجلاس کے عالمی موضوع ‘واسودھیو کٹمبکم’ نے ایسا انمٹ تاثر چھوڑا ہے کہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے ۔ تقریب کے مہمان خصوصی ہریانہ اسمبلی کے اسپیکر گیان چند گپتا نے ملک اور دنیا میں اتنے بڑے پیمانے پر آیوروید ڈے منانے کیلئے وزارت آیوش کی تعریف کی اور آیوروید کی ترقی کیلئے ہریانہ حکومت کی کوششوں کا ذکر کیا۔ آیوش کے مرکزی وزیر مملکت منجاپرا مہندر بھائی نے کہا کہ آئی آئی ٹی، ایمس اور سی ایس آئی آر جیسے اداروں نے آیورویدک ادویات کی خصوصیات کو سمجھنے کیلئے آیوش کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے ۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن کی مدد سے پورے ملک میں موجود ادویاتی پودوں کی میپنگ کی جا رہی ہے ۔ آیوروید صرف انسانی صحت تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس سے جڑے دیگر سلسلے بھی ہیں جیسے وِرکشایوروید، اینیمل آیوروید اور یہ سب مل کر ایک صحتمند آیوروید ماحول بناتے ہیں۔
آیوروید کے میدان میں نمایاں خدمات کیلئے قومی دھنونتری آیوروید ایوارڈ ویدیا آر ایم اوہاد، ویدیا پی وی دمانیا، ویدیا ایل مہادیون سرما کو دیئے گئے ۔ آیوروید کا دن ہر سال دھنونتری جینتی پر منایا جاتا ہے ۔ ہر سال اس پروگرام کے انعقاد سے یوم آیوروید کی شہرت پوری دنیا میں بڑھی ہے