ابھجیت دیپکے، آشوتوش رانکا اور سورو داس رِہا

,

   

نئی دہلی۔11؍اکتوبر ( ایجنسیز ) کاکروچ جنتا پارٹی اور طلبہ و نوجوانوں کی تنظیموں کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبہ کو لیکر بلائے گئے جنتر منتر احتجاج کے دوران دہلی میں شدید افراتفری اور ہلچل رہی۔ ایگزیکیٹیو مجسٹریٹ کی عدالت نے ابھیجیت، سوربھ اور آشوتوش کو رہا کر دیا ہے۔ رتنا سنگھ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعہ یہ معلومات شیئر کی ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ ابھیجیت دیپکے، آشوتوش رانکا اور سوربھ داس کو بی این ایس ایس کی دفعہ کے تحت احتیاطی حراست میں لیتے ہوئے 10 اکتوبر 2026 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تمام قانونی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد انہیں 11 اکتوبر 2026 کو دہلی کینٹ میں واقع ایس ای ایم کورٹ میں پیش کیا گیا۔ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے اور اچھے رویے کی یقین دہانی کیلئے ایک سال کی مدت کیلئے 50,000 کا ضمانتی بانڈ بھرا گیا جس کے بعد ایس ای ایم کورٹ نے انہیں رہا کرنے کا حکم جاری کردیا۔ اس طرح انہیں رہائی مل گئی ہے۔ بعدازاں سوروداس اور دوسروں نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ سوروداس اور آشوتوش رانکا نے کہا کہ حراست میں ان کے فونس کو ضبط کرلیا گیا تھا۔ انہوں نے اس خوف کا اظہار کیا کہ ان کے فونس کی کلوننگ کی جاسکتی ہے یا پھر چھیڑچھاڑ کا بھی اندیشہ ہے۔ الیکٹرانک آلات کو ضبط کرنے کے قواعد پر عمل نہیں کیا گیا۔