ابھیجیت ڈپکے اور ساتھیوں کو ممبئی سے آمد پر طیارہ میں ہی گرفتار کرلیا گیا ۔ طلباء لیڈر نیہا بورا اور کئی سیاسی قائدین بھی محروسین میں شامل ۔ دہلی کی سڑکوں پر طاقت کا بے تحاشہ استعمال ’ میڈیا کو بھی نشانہ بنایا گیا
نئی دہلی 10 اکٹوبر ( ایجنسیز ) دارالحکومت دہلی میں آج سی جے پی کے احتجاج کے دوران ہزاروں احتجاجیوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا اور احتجاجیوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی گئی ۔ پولیس کی جانب سے سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے ‘ ان کے ساتھیوں سورو داس اور آشوتوش رانکا اور دوسروں کو ممئبی سے دہلی آمد کے ساتھ ہی طیارہ کے اندر سے ہی گرفتار کرلیا ۔ پولیس کی ایک ٹیم طیارہ کے اندر پہونچی اور ان تمام سی جے پی نمائندوں کو حراست میں لے لیا ۔ اس کے علاوہ جنتر منتر پہونچنے کی کوشش کرنے اور احتجاج میں شامل ہونے والے اپوزیشن جماعتوں کے چار سابق چیف منسٹروں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ۔ ان میں سابق چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی ‘ سابق چیف منسٹر کیرالا پی وجئین ‘ سابق چیف منسٹر تریپورہ مانک سرکار اور سابق چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال شامل ہیں جنہیں پولیس کی جانب سے حراست میں لے لیا گیا ۔ ممتابنرجی اپنے کئی ارکان پارلیمنٹ اور دیگر قائدین کے ساتھ جنترمنتر کی سمت جا رہی تھیں کہ پولیس نے انہیں روک دیا ۔ اس موقع پر ممتابنرجی وسطی دہلی کے ساؤتھ اوینیو میں ایک بس اسٹانڈ پر ہی دھرنے پر بیٹھ گئیں جس کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا ۔ ممتابنرجی کے ساتھ ڈیرک اوبرائین اور ڈولا سین کو حراست میں لے کر ایک بس کے ذریعہ منتقل کردیا گیا ۔ ممتابنرجی نے پولیس بس سے جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ حکومت کی جانب سے ان سے بدسلوکی کی جا رہی ہے ۔ ممتا نے کہا کہ انڈیا اتحاد کی جانب سے عوام کی آواز کو مستحکم کرنے کیلئے جدوجہد جاری رکھی جائے گی ۔ اسی طرح دوسرے سابق چیف منسٹروں اور دیگر قائدین کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا ۔ جنترمنتر کے قریب احتجاج کیلئے پہونچنے سے روکنے کیلئے کئی دوسرے اپوزیشن اور طلباء قائدین کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی ۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کی سربراہ نیہا بورا کو بھی احتجاج کی قیادت کرتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا ۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت بھوشن ‘ جہد کار یوگیندر یادو اور دوسرے بھی موجود تھے ۔ نیہا بورا نے الزام عائد کیا کہ پولیس کی جانب سے ان کا موبائیل فون بھی چھین لیا گیا تھا تاہم اسے بعد میں حوالے کردیا گیا ۔ اس کے علاوہ کئی صحافیوں اور جہد کاروں نے بھی شکایت کی کہ پولیس کی جانب سے ان کے موبائیل فون چھین لئے گئے تھے ۔ ان کے ڈیٹا کو حذف کردیا گیا اور ان کے کیمروں کو بھی نقصان پہونچایا گیا ۔ اس کے علاوہ کچھ مقامات پر سپریم کورٹ کے وکلاء تک کو نہیں بخشا گیا اور جنترمنتر جانے سے روکتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا گیا ۔ عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال کو جنتر منتر کی سمت مارچ کرتے ہوئے کئی قائدین کے ساتھ حراست میں لیا گیا ۔ احتجاج میں شامل کئی نوجوان اور طلباء کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نعرے لگائے جا رہے تھے اور ان سے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا ۔ حکومت کی جانب سے اس احتجاج کو کچلنے کیلئے بے تحاشہ طاقت کا استعمال کیا گیا ۔ ہزاروں کی تعداد میں سکیوریٹی دستوں کو متعین کردیا گیا تھا ۔ جنتر منتر تک پہونچنے والے تمام راستوں کو بند کردیا گیا تھا ۔د ہلی کے 57 کے منجملہ 45 میٹرو اسٹیشنوں کو بند کردیا گیا تھا ۔ دہلی آنے والی ایکسپریس ٹرینوں وغیرہ کو بھی منسوخ کردیا گیا ۔ کئی علاقوں میں بس خدمات بھی معطل رکھی گئیں۔ جنتر منتر کے اطراف چار کیلو میٹر کے احاطہ میں انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھا گیا تھا ۔ پولیس فورس کی جانب سے صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کو بھی نہیں بخشا گیا اور کئی مقامات پر شناختی کارڈ رکھنے والے میڈیا اہلکاروں کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی ۔ انہیں بھی بسوں میں بھر کر مختلف مقامات کو منتقل کردیا گیا ۔ اروند کجریوال کی قیامگاہ کے باہر صبح سے ہی بھاری پولیس کو متعین کردیا گیا تھا اور جب وہ احتجاج میں حصہ لینے باہر آئے انہیں حراست میں لے لیا گیا ۔ اروند کجریوال نے اس موقع پر کہا کہ ہندوستان کا نوجوان خوفزدہ ہونے والا نہیں ہے ۔ ہم ووٹ چوری کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ ہر کسی کو آگے آ کر احتجاج میں شامل ہونا چاہئے ۔ سابق چیف منسٹر کیرالا پی وجئین کے ساتھ سی پی ایم کے رکن پارلیمنٹ جان بریٹاس کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا ۔ کئی قائدین اور کارکنوں کو رات دیر گئے سے حراست میں لینے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔ جرمنی سے آئے ہوئے انفلوئنسر دھرو راتھی کو صبح کی اولین ساعتوں میں گرو گرام میں ان کے گھر سے ہی حراست میں لے لیا گیا تھا ۔ احتجاج کے دوران حراست میں لئے گئے افراد کو مختلف اسٹیڈیمس میں رکھا گیا تھا ۔