فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
اترپردیش میں مخالف مسلم پالیسیاں
ملک کی سب سے بڑی اور سیاسی طور پرسب سے حساس ریاست میں مسلم دشمنی کو نت نئے انداز سے تقویت دی جا رہی ہے ۔ کچھ فرقہ پرست عناصر کی جانب سے مسلمانوںکو نشانہ بنانے کے واقعات ویسے تو سارے ہندوستان میںپیش آتے ہیںلیکن اترپردیش کی جہاں تک بات ہے تو وہاں باضابطہ ریاستی حکومت کی نگرانی میں ایسی پالیسیاں تیار کی جا رہی ہیں جن سے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ ہوتا ہو۔ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے نت نئے قوانین تیار کئے جا رہے ہیں۔ قوانین اور مختلف بہانوں سے مسلمانوںکو تنگ کیا جا رہا ہے ۔ گذشتہ سات برس قبل مظفر نگر میںفرقہ وارانہ فسادات کے ذریعہ حالات کو حد درجہ بگاڑنے کی کوششوں کا باضابطہ آغاز ہوا ۔ویسے تو بابری مسجد۔ رام جنم بھومی تنازعہ کو ہوا دیتے ہوئے سارے ملک کے حالات بگاڑے گئے تھے لیکن اس کے نتیجہ میںا ترپردیش میں سماج کو باضابطہ فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرکے رکھ دیا گیا تھا ۔ اس کے اثرات یہ ہوئے کہ سماج کے ہر شعبہ میں مسلمانوں سے نفرت پیدا ہونے لگی ۔ ہندو ۔ مسلم روایات کا خاتمہ ہو کر مسلم دشمنی کو سماج میںجگہ ملنے لگی ۔ سرکاری ملازمتوں میںمسلمانوں کے تناسب کو منظم انداز میں کم کرنے کے بعد ان کی تجارتوں کو نشانہ بنایا گیا ۔ مسلمانوں کی معیشت کو ختم کرنے کیلئے ہر ممکن ہتھکنڈے اختیار کئے گئے ۔ ان کی جائیداد و املاک تک کو نہیں بخشا گیا ۔ مسلم لڑکیوںکو پیار کے جال میں پھانس کر ان کا استحصال کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ ان سارے حالات کے بعد جب سے آدتیہ ناتھ ریاست کے چیف منسٹر بنے ہیں حکومت کی جانب سے ایسے قوانین تیار کئے جا رہے ہیں جن کا واحد اور اصل مقصد مسلمانوںکو نشانہ بنانا ہے ۔ اترپردیش وہ ریاست ہوگئی ہے جہاںکوئی جتنی شدت سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائے گا اسے سرکاری طور پر اتنے ہی اعزازات دئے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے آدتیہ ناتھ کو اترپردیش کا چیف منسٹر بنایا گیا تھا ۔ آدتیہ ناتھ کے خلاف درجنوں مقدمات نفرت پھیلانے کے درج ہیں۔ اس کے باوجود انہیں چیف منسٹر بنایا گیا ۔ کئی وزراء کے خلاف بھی سنگین الزامات کے تحت مقدمات درج ہیں۔
حالیہ عرصہ میں دیکھا گیا ہے کہ قوانین بناتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ پہلے تو ریاست میں مسالخ کو بند کیاگیا ۔ چمڑے کی تجارت کو منظم انداز میں ختم کردیا گیا ۔ مسلمانوں کو کئی علاقوں جائیدادیں خریدنے اور بیچنے سے روکا جا رہا ہے ۔ انہیں مقدمات میں پھانسنے کے عمل میں تیزی پیدا ہوگئی ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ بلدی اور ضلع انتظامیہ کو استعمال کرتے ہوئے مساجد اور عبادتگاہوںکو شہید اورمسمار کیا جا رہا ہے ۔ قوانین کے ذریعہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی بدترین مثال رکن پارلیمنٹ اعظم خان کی ہے ۔ انہیں درجنوں نہیں بلکہ سو سے زیادہ مقدمات میں پھانس کر رسوا کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ان کے رکن اسمبلی فرزند اور رکن اسمبلی اہلیہ کو مقدمات میں پھانس کر جیل بھیج دیا گیا ۔ اہلیہ کی کسی طرح ضمانت ہوگئی لیکن اعظم خان اور ان کے فرزند عبداللہ اب بھی جیل میں ہیں۔ اعظم خان کا واحد قصور یہ تھا کہ انہوںنے بی جے پی کی چاپلوسی یا در پردہ غلامی قبول نہیں کی اور انہوں نے اترپردیش میںایک عظیم الشان یونیورسٹی قائم کردی ۔ حکومت نہیںچاہتی کہ ریاست میں مسلمانوں کو اعلی تعلیم کے مواقع دستیاب ہوں۔ اسی لئے بیہودہ نوعیت کے مقدمات درج کرواتے ہوئے انہیںجیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا گیا ۔ یہ ایک رکن پارلیمنٹ کے ساتھ سلوک ہے ۔ ان کے ارکان اسمبلی خاندان کے ساتھ یہ سلوک ہے تو پھر عام مسلمانوں کی حالت کیا ہوگی اندازہ کرنا مشکل نہیں ہوگا ۔ یہ سارا کچھ مخالف مسلم ذہنیت اور متعصب ذہنیت کا نتیجہ ہے ۔
جس طرح امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے اترپردیش میںمخالف مسلم سرگرمیوںپر تشویش کا اظہار کیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے خود مرکزی حکومت کو بھی اس کا نوٹ لینے کی ضرورت ہے ۔ ملک کی عدلیہ کو بھی اس جانب توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اب جبکہ ریاست میں آئندہ اسمبلی انتخابات کیلئے آٹھ ماہ کا وقت رہ گیا ہے تو یہ اندیشے تقویت پاتے جا رہے ہیں کہ ریاست میںایک بار پھر مخالف مسلم مذہبی جذبات کو بھڑکاتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ ایسی کوششوںکو ناکام بنانا سارے اترپردیش کے عوام کی ذمہ داری ہے ۔ ساری ذمہ دار اپوزیشن کو بھی اس میں اپنا رول ادا کرنا چاہئے ۔
