یوں تو رہ حیات بہت تابناک ہے
لیکن ذرا نگاہِ فروزاں بھی لے چلو
اترپردیش میں آبادی پر قابو کا قانون
اترپردیش میں آدتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت ایسا لگتا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات بھی فرقہ وارانہ ایجنڈہ پر لڑنا چاہتی ہے ۔ گذشتہ چار سال میں جو کچھ رہی سہی کسر باقی رہ گئی تھی ان چند ماہ میں پوری کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ خاص طور پر جب سے یہ سروے منظر عام پر آئے ہیں کہ کورونا وباء میں آدتیہ ناتھ حکومت کی کارکردگی ناقص اور مایوس کن رہی ہے اور عوام میں ان کے تعلق سے برہمی و ناراضگی پائی جاتی ہے نت نئے اقدامات فرقہ وارانہ صورتحال کے استحصال کیلئے کئے جا رہے ہیں۔ ریاست میں اقتدار سنبھالتے ہی ویسے ہی کئی اقدامات مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے کئے گئے تھے اور جس وقت سے کورونا کی وباء نے ملک میں تباہی مچائی تھی اس کے بعد سے ایسے فیصلوں میں قدرے سستی آگئی تھی ۔ تاہم اب اچانک ہی بی جے پی حکومت کی جانب سے آبادی پر قابو پانے کے اقدامات کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا عمل شروع کردیا گیا ہے ۔ اترپردیش لا کمیشن کی ویب سائیٹ پر نئے قانون کے مسودہ کو پیش کردیا گیا ہے اور عوام سے 19 جولائی تک رائے طلب کی گئی ہے ۔ اس قانون میں گنجائش فراہم کی گئی ہے کہ جن جوڑوں کو دو سے زائد بچے ہونگے وہ سرکاری نوکری پانے کے اہل نہیں ہونگے ۔ ویسے ہی مسلمان تقریبا تمام شعبوں میں سرکاری ملازمتوں میں انتہائی کم تعداد میں ہیں لیکن نئے قانون کے ذریعہ اس تعداد کو اور بھی گھٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ کئی گوشوں کی جانب سے مسلسل مسلمانوں کی آبادی کے تعلق سے اشتعال انگیز تبصرے کئے جاتے رہے ہیں لیکن اب ان تبصروں کو آگے بڑھاتے ہوئے یوگی حکومت نے باضابطہ قانون سازی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ جن جوڑوں کو دو سے زائد بچے ہونگے وہ سرکاری نوکری کیلئے نا اہل قرار دیدئے جائیں گے ۔ جو لوگ پہلے سے ملازمتوں میں ہیں انہیں ترقی سے محروم کردیا جائیگا ۔ اس کے علاوہ دو سے زیادہ بچے رکھنے والوں کو جملہ 77 اسکیمات سے استفادہ کا موقع بھی فراہم نہیں ہوگا ۔ حکومت اترپردیش کے یہ اقدامات عوام کے ذاتی امور میں مداخلت کے مترادف ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ ملک میں آبادی بہت زیادہ ہوگئی ہے اور اس پر قابو پانے کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئیں تاہم اس طرح سے سرکاری نوکریوںا ور اسکیمات سے محروم کرتے ہوئے در اصل عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم کیا جا رہا ہے ۔ جو کوئی قانون آبادی پر کنٹرول کیلئے بنایا جائے وہ مرکزی حکومت کو بنانا چاہئے اور سارے ملک میں اس پر عمل آوری کی جاسکتی ہے ۔ کتنے بچے پیدا کرنے ہیںان کی تعداد کے تعلق سے جبرا کوئی فیصلہ عوام پر مسلط نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ در اصل ذاتی زندگی میں مداخلت کے مترادف ہوگا ۔ مرکزی حکومت کوا س معاملے میں مداخلت کرنی چاہئے بلکہ پہل کرتے ہوئے سارے ملک کیلئے ایسا قانون بنایا جانا چاہئے جس میں کم بچے پیدا کرنے والوں کیلئے مراعات فراہم کی جائیں تاہم زیادہ بچے پیدا کرنے والوں کیلئے اس طرح سرکاری ملازمتوں پر پابندی عائد کرنا یا پھر پہلے سے موجود ملازمین کو ترقی سے محروم کرنا انصاف نہیں ہوسکتا ۔ حکومت اترپردیش کی جانب سے یہ قانون در اصل مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے بنایا جا رہا ہے تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ خود ہندو برادری میں بھی کئی خاندان ایسے ہیں جہاں دو سے زیادہ بچے موجود ہیں۔ کئی سرکاری ملازمین دو سے زیادہ بچوں کے باپ یا ماں ہیں ۔ کیا ان تمام کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی ۔ حکومت کو انتہائی جلد بازی میں ایسے فیصلے کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کیلئے پہلے رائے عامہ ہموار کی جانی چاہئے ۔ اچانک فیصلے مسلط کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔
آبادی صرف ریاست اترپردیش کا مسئلہ نہیں ہے ۔ یہ سارے ملک کا مسئلہ ہے ۔ اس کو کسی ایک ریاست تک یا کسی ایک مخصوص فرقہ تک محدود کرکے نہیں دیکھا جاسکتا ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ قومی سطح پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے ۔ عوام میں ملک کے وسائل اور مشکلات کے تعلق سے شعور بیدار کیا جائے ۔ اس پر ماہرین کی رائے حاصل کی جائے اور ساری صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ماہرین کے مشورہ سے کوئی فیصلے یا اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ آدتیہ ناتھ حکومت کو اس مسئلہ پر جلد بازی میں فیصلہ کرنے اور زبردستی کوئی قانون مسلط کردینے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس طرح کے فیصلوں سے عوام میں اور سماج میں غلط پیام جائے گا ۔ حکومت کو سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سماجی اور ریساتی صورتحال کی مطابقت میں فیصلے کرنے کی ضرورت ہے ۔
تیسری لہر کے اندیشے اور احتیاط
کورونا کی دوسری لہر نے ساری ملک میں تباہی مچائی ہے اور اب جبکہ اس کا اثر ٹوٹ چکا ہے اور حالات بتدریج بہتر ہوتے جا رہے ہیں تو ملک بھر میں کورونا کے تعلق سے بداحتیاطی شروع ہوچکی ہے ۔ نہ کوئی سماجی فاصلے کے اصولوں کی پابندی ہو رہی ہے اور نہ ماسک کا استعمال ہو رہا ہے ۔ہم بالکل ہی فراموش کرچکے ہیں کہ کورونا کی دوسری وباء سے ہم ہی شدید ترین متاثرین میں شامل تھے ۔ اب جبکہ ماہرین اور سائنسدانوں کی جانب سے اکٹوبر کے اوائل تک ملک بھر میں تیسری لہر کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں تو ہمیں ابھی سے چوکسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ ضروری نہیں کہ تیسری لہر یقینی طور پر آئے لیکن احتیاط کے تقاضوں کا خیال رکھنا ہم سب کیلئے ضروری ہے ۔ حکومتوں کی جانب سے حالانکہ لاک ڈاون کی تحدیدات میں نرمی دیدی گئی ہے تاہم عوام کیلئے یہ مشورے بھی دئے گئے ہیں کہ وہ احتیاط کو لازمی اختیار کریں۔ سماجی فاصلے کے اصولوں کی سارے ملک میں دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ صرف اسکولس اور تعلیمی اداروں کو بند کرتے ہوئے کورونا سے احتیاط نہیں ہوسکتی ۔ کورونا کہیں بھی کسی بھی مقام پر آسکتا ہے اور کسی کو بھی زد میں لے سکتا ہے ۔ ملک کے تفریحی مقامات پر خاص طور پر سیاحوں کا ہجوم جمع ہونا شروع ہوگیا ہے ۔ مقامی حکومتوں کی جانب سے کورونا احتیاط پر عمل آوری کے معاملے میں اتنی سختی نہیں کی جا رہی ہے جتنی لاک ڈاون کے ایام میں کی گئی تھی ۔ عوام کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ حکومتوں کی جانب سے کارووائی پر ہی احتیاط نہ کریں بلکہ اپنے طور پر بھی تمام تر احتیاط کو ملحوظ رکھیں۔ عوام کیلئے ضروری ہے کہ وہ آئندہ مہینوں میں مشکلات اور پریشانیوں سے بچنے کیلئے ابھی سے احتیاط کریں۔
