اترپردیش میں ووٹر لسٹ سے 1.27 کروڑ ہندو ووٹرسں کے نام غائب

,

   

سرکاری اسکیمات کے استفادہ کنندگان اور نوجوانوں کے نام شامل نہیں ۔ کارکنوں کو نام شامل کروانے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کا مشورہ

لکھنو 31 اکٹوبر ( ایجنسیز ) چیف منسٹر اترپردیش آدتیہ ناتھ نے بی جے پی ریاستی عاملہ کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی ورکرس پر زور دیا کہ وہ ایس آئی آر کے تعلق سے چوکس رہیں ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ کروڑوں ہندووں کے نام ووٹر لسٹ سے غائب پائے گئے ہیں۔ چیف منسٹر نے دعوی کیا کہ ووٹر لسٹ سے 1.27 کروڑ ہندووں کے نام لاپتہ ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام اہل ووٹرس کے نام اس میں شامل کئے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ سے ناموں کے اخراج کے نتیجہ میں 28 شہری مجالس مقامی حلقوں میں پارٹی کا موقف کمزور ہوا ہے ۔ انہوں نے آبادی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اترپردیش میں زائد از 16 کروڑ ووٹرس ہونے چاہئیں جبکہ موجودہ رائے دہندوں کی تعداد اندازہ کے مطابق 13 کروڑ ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ 66 لاکھ افراد کے نام ایسے ہیں جو پنچایت انتخابات کے وقت فہرست میں موجود تھے تاہم اسمبلی انتخابات کی ووٹر لسٹ سے یہ نام غائب ہیں۔ اسی طرح 55 لاکھ افراد سرکاری اسکیمات سے استفادہ کر رہے تھے اور ان کے نام بھی ووٹر لسٹ میں موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 18 تا 19 سال عمر کے 4.5 لاکھ افراد کے نام بھی ووٹر لسٹ سے غائب پائے گئے ہیں۔ آدتیہ ناتھ نے اس بات پر تششویش کا اظہار کیا کہ سابقہ ایس آئی آر کے عمل میں ریاست میں صرف چار لاکھ ووٹرس کے نام شامل کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی ورکرس کو ہدایت دی کہ وہ بوتھ لیول آفیسرس کے ساتھ تعاون کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ اہل ووٹرس کے نام ووٹر لسٹ میں شامل ہوں اور اس عمل کی وقفہ وقفہ سے نگرانی کی جاتی رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی ‘ ارکان پارلیمنٹ اور پارٹی عہدیداروں کو یہ ذمہ داری ہونی چاہئے کہ وہ ہندو ووٹرس کے نام فہرست رائے دہندگان میں شامل کروائیں۔ واضح رہے کہ اترپردیش میں ووٹر لسٹ سے ایس آئی ار کے دوران جملہ 2 کروڑ 4 لاکھ افراد کے نام حذف کئے گئے تھے اور زیادہ تر افراد کا شہری علاقوں سے تھا اور ان میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی ۔ زائد از 84 لاکھ نئے ووٹرس شامل کئے گئے ہیں ۔ ریاست میں جملہ ووٹرس کی تعداد 13 کروڑ 39 لاکھ 84 ہزار 792 بتائی گئی ہے ۔