اترپردیش : گوشت بیچنے کے شبہ پر غنڈہ گردی

   

ہندو تہواروں کے دوران گوشت کی بریانی فروخت کرنے پر دکان میں توڑپھوڑ
سردھانہ ؍ نئی دہلی : اترپردیش کے ضلع سردھانہ میں ہندوتوا کے غنڈوں نے ایک مسلم بیوپاری کی ٹھیلہ بنڈی کو توڑپھوڑ کا نشانہ بناتے ہوئے اس کی رقم لوٹ لی۔ دو روز قبل پیش آئے واقعہ کی تفصیلات کے مطابق ہندو تہواروں کے دن ہے اور ایسے موقع پر اس بیوپاری پر شبہ کیا گیا کہ وہ گوشت کی بریانی فروخت کررہا ہے جسے بعض ہندو فرقے ناپسند کرتے ہیں حالانکہ اس کے کاروبار میں گوشت فروخت ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی لیکن ہندوتوا عناصر نے اسے مارپیٹ کی اور اس کی دکان کو نقصان پہنچایا۔ اس کے پیسے بھی چھین لئے گئے۔ دکاندار کا نام ساجد بتایا گیا ہے جو زائداز 3 سال سے ٹھیلہ بنڈی پر اپنا کاروبار کرتا رہا ہے۔ بتایا گیا کہ مقامی پولیس عہدیداروں نے ایک روز قبل اسے زبانی طور پر متنبہ کیا تھا کہ اگلے روز وہ بریانی نہ بیچے۔ چنانچہ ساجد نے اس کی تعمیل کی اور معمول کے برخلاف سویا بریانی فروخت کی۔ اتوار کو چند لوگوں کا گروپ ساجد کی ٹھیلہ بنڈی کے اطراف جمع ہوا اور دعویٰ کرنے لگا کہ وہ مٹن فروخت کررہا ہے اور اس کے احتجاج کے باوجود اس کی ٹھیلہ بنڈی الٹ دی گئی۔ اس کا سارا کھانا برباد ہوگیا اور 15,000 روپئے کی نقدی بھی لوٹ لی گئی۔ ہندوتوا کی تنظیم نوراتری ہندو تہوار کے دوران گوشت فروخت کئے جانے پر اپنے اعتراضات کے معاملہ میں جارحانہ رخ اختیار کرتی رہی ہے۔ 21 سالہ ساجد نے میڈیا کو اپنی بپتا سنائی۔ اس نے کہا کہ وہ معمول کے مطابق بزنس شروع کیا۔ یکایک چند لوگ آئے اور اس سے پوچھا کہ کھانے میں کیا فروخت کررہے ہو۔ میں نے انہیں بتایا کہ سویا بریانی دستیاب ہے۔ وہ اصرار کرنے لگے کہ میں نان ویج بیچ رہا ہوں جو قواعد کے خلاف ہے۔ اس سے قبل کہ میں کچھ سنبھل پاتا، میرا سارا اسٹال برباد کردیا گیا۔ ٹوئیٹر پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہیکہ بعد میں ساجد کی تائید میں کئی لوگ جمع ہوئے۔ وہاں تھوڑا سا کھانا بچا ہوا تھا، سویابین کے اثرات بھی دیکھے جاسکتے تھے جبکہ پولیس گرماگرم ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ سردھانا پولیس نے سابق بی جے پی لیجسلیٹر سے تعلق رکھنے والی سنگیت سوم سینا کے ریاستی سربراہ سچن کاتک زیرقیادت گروپ کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔