اترکاشی مسجد کی مخالفت ‘ شدت پسندوں کا پرتشدد احتجاج

,

   

lمسلمانوں کی دکانوں میں توڑ پھوڑ، سنگباری میں کئی پولیس ملازمین زخمی
lمسجد وقف بورڈ میں رجسٹرڈ‘ تمام دستایزات موجود: ضلع مجسٹریٹ

دہرادون :اتراکھنڈ کے اترکاشی میں کاشی مندر کے قریب 55 سالہ قدیم مسجد کو منہدم کرنے کا ناجائز مطالبہ کرتے ہوئے ہندوتوا تنظیموں کی قیادت میں نکالی گئی ریالی کے دوران پرتشدد واقعات پیش آئے۔ میڈیاکی رپورٹ کے مطابق پرتشدد واقعات میں شرپسندوں نے مسلمانوں کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کرکے بڑے پیمانہ پر نقصان پہنچایا۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پولیس نے جب شدت پسندوں کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا تو ان کی سنگباری میں کئی پولیس ملازمین زخمی ہوگئے۔واضح رہے کہ اترکاشی ضلع مجسٹریٹ مہربان سنگھ بشت نے کچھ روز قبل پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ مسجد کے پاس تمام ضروری سرکاری دستاویزات موجود ہیں۔ دی ہندو کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مسجد وقف بورڈ میں رجسٹرڈ بھی ہے۔پولیس سپرنٹنڈنٹ امیت سری واستو نے بتایا کہ پولیس بیریکیڈز کے قریب پہنچ کر بھیڑ مشتعل ہوگئی تھی۔ مظاہرین نے احتجاجی مارچ کو طے شدہ راستے کے برخلاف مسجد کی طرف موڑنے کی کوشش کی جس کے بعد پولیس افسران نے مداخلت کی۔ جب مظاہرین کو روکا گیا تو انہوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس میں کئی اہلکار زخمی ہو گئے۔