چناؤ 2027 میں یو سی سی بن سکتا ہے اہم سیاسی معاملہ، بی جے پی سرگرم
لکھنؤ، 16 ستمبر (یواین آئی) اتر پردیش میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل یکساں سول کوڈ (یو سی سی) پر سیاسی بحث تیز ہونے لگی ہے ۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) کی حکومت والے تمام 21 ریاستوں میں یو سی سی نافذ کرنے کے ہدف سے متعلق بیان کے بعد اتر پردیش میں بھی اس معاملے پر سیاسی سرگرمی بڑھ گئی ہے ۔یو سی سی کا معاملہ انتخابی بحث میں آنے کی صورت میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلاف کا ایک نیا میدان بن سکتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت نے یو سی سی کا مسودہ تیار کرنے کی سمت ابھی باضابطہ طور پر کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے اور فی الحال ریاست میں اسے نافذ کرنے کی کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی ہے ۔ اتراکھنڈ ملک کی پہلی ریاست ہے جہاں یو سی سی نافذ کیا گیا، جبکہ آسام، گجرات اور مدھیہ پردیش میں اس سے متعلق بل اسمبلیوں سے منظور ہوچکے ہیں اور صدر کی منظوری کا انتظار ہے ۔بی جے پی کے ایک سابق ریاستی صدر نے کہا کہ یو سی سی پارٹی کے اہم نظریاتی معاملے میں شامل رہا ہے ۔ ان کے مطابق آرٹیکل 370 اور رام مندر کے بعد یکساں سول کوڈ کو بھی پارٹی کے اہم اہداف میں شمار کیا جاتا رہا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ امت شاہ کے حالیہ بیان نے اس معاملے کو قومی سطح پر ایک بار پھر سیاسی بحث کے مرکز میں لا دیا ہے ۔بی جے پی ذرائع کے مطابق اتر پردیش میں پارٹی نے 2027 کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر تنظیمی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ حالیہ اجلاسوں میں انتخابی تیاریوں، حکومت کی کارکردگی اور عوامی رابطہ مہمات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے ۔ ایسے میں مرکز کی جانب سے یو سی سی سے متعلق پیغام ریاستی بی جے پی کے لیے اس نظریاتی معاملے کو انتخابی بحث سے جوڑنے کی بنیاد بن سکتا ہے ۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یو سی سی سے اتر پردیش کے انتخابی توازن پر کیا اثر پڑے گا، یہ کہنا فی الحال قبل از وقت ہوگا۔ ریاست میں ذات پات کے مساوات، روزگار، مہنگائی، کسان، امن و قانون اور سماجی انصاف جیسے مسائل بھی سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔
سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے یو سی سی کو لے کر بی جے پی پر سوال کرتے ہوئے اسے روزگار، مہنگائی اور سماجی انصاف جیسے مسائل سے توجہ ہٹانے کی حکمت عملی قرار دیا ہے ۔ وہیں کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی یو سی سی کے بجائے روزگار، غربت، صحت اور سماجی مسائل کو انتخابی بحث میں ترجیح دینے کی بات کہی ہے ۔
کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے نے امت شاہ کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی عملی اہمیت بہت کم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش روایات والی ریاست ہے اور لوگ اپنی روایات پر عمل کرتے رہیں گے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یو سی سی کا مسئلہ صرف ووٹ بینک کی سیاست کے لیے اٹھایا جا رہا ہے ۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل یو سی سی کا مسئلہ ایک طرف بی جے پی کے نظریاتی ایجنڈے کو مزید نمایاں کرسکتا ہے ، تو دوسری طرف اپوزیشن کو اسے روزگار، سماجی انصاف اور دیگر عوامی مسائل سے جوڑ کر جواب دینے کا موقع مل سکتا ہے ۔
بنارس ہندو یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر اے کے شریواستو کے مطابق فی الحال یہ معاملہ سیاسی بحث کی سطح پر ہے اور اتر پردیش میں اس کا حقیقی انتخابی کردار اس بات پر منحصر ہوگا کہ ریاستی حکومت اس سمت میں کب اور کس نوعیت کی قانون سازی کی پہل کرتی ہے ۔
بی جے پی کے ریاستی ترجمان اویناش تیاگی نے کہا کہ پارٹی صرف انتخابات کے بارے میں نہیں بلکہ ملک کے مفاد میں سوچتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کے بیان سے اپوزیشن میں بے چینی بڑھی ہے اور ان کے اندر گھبراہٹ واضح طور پر نظر آ رہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے لیے جتنے جرات مندانہ فیصلے کیے ہیں، اتنے آج تک کسی نے نہیں کیے ۔