چیف منسٹر اوورسیز رقومات کی اجرائی مسلسل نمائندگی اور احتجاج کا نتیجہ
حیدرآباد۔25جنوری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ سے مطالبات منوانے کیلئے احتجاج لازمی ہے کیونکہ بغیر کسی احتجاج کے مسائل حل نہیں ہورہے ہیں۔ اس کی مثال 2020 سے چیف منسٹر اوورسیز اسکالر شپس کی رقومات کا انتظار کرنے والے طلبہ کیلئے رقومات کی اجرائی ہے۔ اوورسیز اسکالر شپس کی عدم اجرائی کے خلاف مسلسل نمائندگیوں اور ایوان اسمبلی میں مسئلہ اٹھائے جانے کے باوجود بھی کئی برسوں سے یہ مسئلہ حل نہیں کیا جارہا تھا لیکن گذشتہ دنوں اولیائے طلبہ و سرپرستوں نے ریاستی حکومت کے خلاف حج ہاؤز پہنچ کر احتجاج کیا اور اس کے ساتھ ہی محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے ہوش ٹھکانے آگئے ۔ ڈائریکٹر محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے سال 2020 سے انتظار کر رہے طلبہ کے اوورسیز اسکالرشپس کی رقومات کی اجرائی کا سلسلہ شروع کیا جاچکا ہے اور کہا جارہاہیکہ جلد ہی دوسری قسط کی بھی اجرائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکومت تلنگانہ ریاست میں اقلیتی طلبہ کیلئے اوورسیز اسکالرشپس کی اجرائی کے معاملہ میں کررہی کوتاہی اور محکمہ اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں و ملازمین کی بدعنوانیوں کے سلسلہ میں مسلسل شکایات اور اجرائی میں تاخیر کے معاملہ میں نمائندگیوں کے باوجود جو مسئلہ حل نہیں ہورہا تھا وہ احتجاج کے ساتھ حل ہونے لگا ہے اور کہا جا رہاہیکہ جاریہ ماہ کے اواخر تک محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے 2021 میں جن طلبہ کو رقومات جاری نہیں کی گئی ہیں ان کی رقومات کی اجرائی کے سلسلہ میں بھی اقدامات کا آغاز کردیا جائے گا۔روزنامہ سیاست میں بجٹ کے متعلق جاری کی جانے والی تفصیلی رپورٹس میں بھی اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی اور طلبہ کو ہونے والے مسائل سے واقف کرواتے ہوئے انہیں رقومات کی اجرائی میں ہونے والی تاخیر کے منفی اثرات سے واقف کروایا گیا تھا۔ دو یوم قبل اولیائے طلبہ کی جانب سے حج ہاؤز کے احاطہ میں مظاہرہ کئے جانے کے بعد محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے حرکت میں آتے ہوئے سال 2020میں اوورسیز اسکالر شپس حاصل کرنے والے طلبہ کے کھاتوں میں رقومات کی منتقلی کا عمل شروع کردیا ہے جبکہ اس احتجاج سے قبل تک بھی یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے رقومات جاری کردی گئی ہیں لیکن محکمہ فینانس کی جانب سے ان رقومات کی منتقلی میں تاخیر کی جا رہی ہے جبکہ ایک ہی احتجاج کے فوری بعد رقومات کی اجرائی کا عمل شروع کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا گیا ہے کہ حکومت محض احتجاج کی زبان سمجھ رہی ہے۔م