چنئی، 11 مئی (یو این آئی) تمل ناڈو کے سابق نائب وزیر اعلیٰ ادے ندھی اسٹالن کو متفقہ طور پر دراوڑ منیترا کژگم (ڈی ایم کے ) کی قانون ساز پارٹی (ایل پی) کا لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے اور وہ اسمبلی میں قائد اپوزیشن (ایل او پی) کے طور پرذمہ داری سنبھالیں گے ۔ سابق وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن، 23 اپریل کو ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کولاتھور سیٹ سے شکست کی وجہ سے ، تین دہائیوں میں پہلی بار ایوان میں موجود نہیں ہوں گے ۔ ان کے بیٹے مسٹر ادے ندھی اسٹالن چنئی کی چیپاک-تروولیکنی سیٹ سے مسلسل دوسری بار منتخب ہوئے ہیں۔ نو منتخب ارکان اسمبلی کے میٹنگ میں انہیں لیجسلیچر پارٹی کا لیڈر منتخب کیا گیا، جس کے بعد وہ قائد حزب اختلاف کی ذمہ داری سنبھالیں گے ۔ ڈی ایم کے کی جانب سے اتوار کی شام جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی ہیڈکوارٹر ‘انا اریوالیم’ میں منعقدہ اجلاس میں سابق وزیر اور سینئر لیڈر کے این نہرو کو قانون ساز پارٹی کا نائب لیڈر اور ای وی ویلو کو اسمبلی میں پارٹی کا وہپ مقرر کیا گیا ہے ۔ تمل ناڈو اسمبلی میں اب وزیر اعلیٰ اور ٹی وی کے کے بانی سی جوزف وجے اور مسٹر ادے ندھی اسٹالن کے درمیان اگلی نسل کے لیڈروں کا سیاسی مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ دونوں ہی تمل فلم انڈسٹری کے نامور اداکار رہ چکے ہیں۔ سیاست میں نسل در نسل تبدیلی اور لیڈروں کے بدلتے ہوئے لباس کا اشارہ دیتے ہوئے ، مسٹر ادے ندھی اسٹالن روایتی سفید دھوتی اور سفید قمیض کے بجائے اکثر جینز اور ڈی ایم کے یوتھ ونگ کے لوگو والی سفید ٹی شرٹ میں نظر آتے رہے ہیں۔ دوسری جانب، مسٹر وجے نے حلف برداری کی تقریب میں کالی پینٹ، سفید فل سلیو شرٹ اور کالا بلیزر پہنا تھا۔ اسمبلی ممبر کے طور پر پیر کے روز ایوان میں داخل ہوتے وقت بھی وہ اسی طرح کے لباس میں نظر آئے ۔
دھوتی اور سفید قمیض طویل عرصے سے تمل ناڈو کی سیاست میں لیڈروں کی پہچان رہی ہے ۔ مجاہد آزادی اور سابق وزیر اعلیٰ راجاجی (سی راج گوپال آچاری) سے لے کر اے آئی اے ڈی ایم کے بانی ایم جی آر، ڈی ایم کے سربراہ ایم کروناندھی، اے آئی اے ڈی ایم کے لیڈر ایڈاپڈی کے پلانی سوامی اور او پنیر سیلوم تک، زیادہ تر لیڈر دھوتی پہننے کی روایت پر عمل کرتے رہے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن بھی روایتی دھوتی پہنتے رہے ، حالانکہ وہ اپنے والد کروناندھی کی طرح کندھے پر پیلی شال نہیں رکھتے تھے ۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، طویل عرصے تک دھوتی لیڈروں کی پہچان رہی ہے اور اسے سادگی کی علامت سمجھا جاتا تھا، جیسا کہ کانگریس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ کے کامراج کے معاملے میں دیکھا گیا، لیکن وقت کے ساتھ یہ اقتدار کی علامت بھی بن گئی۔