اردو اکیڈیمی کی اراضی نجی کمپنی کے حوالے کرنے کی تردید

   

اسمبلی میں محکمہ اقلیتی بہبود کا تحریری جواب داخل ، کسی بھی معاہدہ سے انکار
حیدرآباد۔8۔ستمبر۔(سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود نے شیخ پیٹ میں موجود اردو اکیڈیمی کی اراضی کسی نجی کمپنی کے حوالہ نہیں کی ۔ ڈپٹی فلور لیڈر بی آر ایس مسٹر ٹی ہریش راؤ نے وقفہ سوالات کے دوران ریاستی وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہر الدین سے تلنگانہ اردو اکیڈیمی کی اراضی کی نجی کمپنی کو حوالگی کے سلسلہ میں سوال کیا تھا جس کا تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں آج حکومت کی جانب سے محکمہ اقلیتی بہبود نے تحریری جواب داخل کرتے ہوئے اس بات کا دعویٰ کیا کہ محکمہ نے کوئی معاہدہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی لیز معاہدہ پر عمل آوری کی گئی ہے۔’’روزنامہ سیاست ‘‘ نے 27 جولائی 2026 کے شمارہ میں جی او ایم ایس 20 کی اجرائی کے ذریعہ مذکورہ اراضی کو خانگی کنسٹرکشن کمپنی کے حوالہ کرنے کے سلسلہ میں انکشاف کیا تھا۔محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے داخل کئے گئے جواب میں 5220 مربع گز شیخ پیٹ میں موجود اس اراضی کی قیمت کے متعلق سب رجسٹرار کی ’کارڈ ویلیو ‘ کے مطابق 23کروڑ22لاکھ 90ہزار قرار دی او رکہا کہ مذکورہ اراضی 44ہزار500 روپئے مربع گز ہے۔سابق ریاستی وزیر مسٹر ٹی ہریش راؤ نے اپنے سوال میں کئی استفسارات کئے تھے جن میں دریافت کیا تھا کہ آیا مذکورہ اراضی کو 30سال کی لیز پر دینے کے فیصلہ سے اردو اکیڈیمی بورڈ یا صدرنشین واقف تھے یا نہیں ! اس سوال کے جواب میں محکمہ اقلیتی بہبود نے دعویٰ کیا کہ جب لیز دی ہی نہیں گئی ہے تو کسی کو علم ہونے یا نہ ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔رکن اسمبلی کے سوال میں اس اراضی کو خانگی کمپنی کے حوالہ کرنے سے قبل قوانین کے مطابق ٹنڈر کی طلبی کی تفصیلات فراہم کرنے کی خواہش کی گئی تھی لیکن حکومت کی جانب سے دیئے گئے جواب میں کہاگیا کہ جب اراضی دی ہی نہیں گئی ہے تو ٹنڈر طلب کس طرح سے کئے جائیں گے۔محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے دیئے گئے جواب میں کہا گیا کہ مذکورہ جائیدادجو 5220 مربع گز ہے وہ حقیقت میں ’’تلنگانہ اردو اکیڈیمی ‘‘ کی ملکیت ہے اور اس اراضی کو اردو گھر اور شادی خانہ کی تعمیر کے لئے مختص کیاگیا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے اسمبلی میں دیئے گئے تحریری جواب میں جہاں اراضی کو نجی کمپنی کے حوالہ نہ کرنے کا دعویٰ کیا وہیں آخری استفسار کے جواب میں کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے 11اگسٹ 2026 کو جاری کئے گئے جی او ایم ایس 23 کے ذریعہ اپنے سابقہ احکامات کو منسوخ کرنے کے سلسلہ میں احکامات جاری کردیئے ہیں اسی لئے اراضی کے معاہدہ یا لیز کی تنسیخ کے منصوبہ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔واضح رہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت موجود اس اراضی کو خانگی کمپنی کے حوالہ کئے جانے کے معاملہ میں سب سے پہلے ’روزنامہ سیاست‘ نے جی او ایم ایس 20 کی اجرائی سے متعلق خبر شائع کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا اور اس کے بعد سے ہی حکومت نے اس مسئلہ پر سخت نوٹ لیتے ہوئے کاروائی شروع کی تھی اور ان احکامات کو منسوخ کردیا جس پر سابق ریاستی وزیر وڈپٹی فلور لیڈر تلنگانہ قانون ساز اسمبلی مسٹر ٹی ہریش راؤ نے آج سوال کیا تھا۔3/m/b