ہندو راشٹر کی وکالت کرنے والوں کو اردو یونیورسٹی میں مہمان بنایا جا رہا ہے
حیدرآباد۔23 نومبر(سیاست نیوز) ملک میں اردو زبان سے نفرت پر اردو زبان کے فروغ کے اداروں بالخصوص مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی خاموشی اور سرکاری طور پر اردو زبان کے اشتہارات میں استعمال پر ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو روکنے کوشش نہ کئے جانے اور گذشتہ دنوں مسلم راشٹریہ منچ کے سربراہ اندریش کمار کو یونیورسٹی میں بطور مہمان خصوصی مدعو کرنے کے بعد ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ اردو پر بھی ہندو راشٹر کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ ملک کی آزادی کے بعد اردو زبان کو نقصانات کا اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن گذشتہ چند برسوں کے دوران اردو کے ساتھ روا سلوک اور کارپوریٹ اداروں کی جانب سے اشتہارات میں اردو زبان کے استعمال پر ان کے بائیکاٹ اور انہیں ہراساں کرنے کی کارروائیوں کے باوجود اردو اکیڈیمیاں ‘ فروغ انسانی وسائل ‘ لسانی کمیشن کی خاموشی کے سبب ہی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے انتظامیہ کا حوصلہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ملک میں نام نہاد ہندو راشٹر کا کارڈ کھیلنے والوں کو اس جامعہ میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا ۔ مرکزی حکومت کی ہندوستانی زبانوں کی فہرست میں اردو کی موجودگی کے باوجود اردو زبان کی ایک سطر ’ جشن رواج‘ کو ایک اشتہار میں برداشت نہ کیا جانا عدم رواداری کا ثبوت ہے اور اگر اردو کے متعلق ایسا زہر اگلا جاتا ہے تو ملک بھر کی تمام اردو اکیڈمی کے علاوہ خود مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ذمہ داروں کو چاہئے تھاکہ ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے کیونکہ اردو زبان کے استعمال پر اب جو ذہن سازی کی جا رہی ہے وہ نہ صرف اردو سے نفرت کا اظہار کر رہی ہے بلکہ اردو بولنے والوں کو مشتبہ بنانے کی کوشش ثابت ہورہی ہے۔ گذشتہ دنوں ممبئی میں معروف صنعتکار و تاجر کے مکان کا پتہ پوچھنے والے شخص کو پولیس نے حراست میں لیا اور کئی گھنٹوں تک پوچھ تاچھ کی گئی لیکن جب پتہ چلا کہ مذکورہ شخص کا تعلق اکثریتی فرقہ سے ہے تو اسے رہا کردیا گیا اور جب یہ دریافت کیا گیا کہ کیوں اسے حراست میں لیا گیا تھا تو بتایا گیا کہ یہ شخص اردو زبان میں بات کررہا تھا اور اردو زبان میں اس نے تاجر کے مکان کا پتہ دریافت کیا تھا عہدیدارو ںنے جو جواب دیا ہے وہ کئی اخبارات میں شائع ہوچکا ہے جو ثبوت ہے کہ ان کے ایسا کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے اور انہوں نے اردوزبان کے استعمال کی وجہ سے جو کارروائی کی ہے وہ درست ہے۔ ریاستی اردو اکیڈمیاں جو کہ حکومتوں سے کروڑہا روپئے فنڈس حاصل کرکے مشاعروں و سمینار کی نذرکرتی ہیں انہیں اب اردو کی ترویج و اشاعت کے ساتھ اس کے تحفظ کیلئے منصوبہ بندی کرنی چاہئے ۔م