نئی دہلی : اردو شاعری ہماری تہذیبی اساس ہے بلکہ ایسا ورثہ و سرمایہ ہے جو بے نظیر ہے ۔جب جب اردو زبان و تہذیب کی تاریخ لکھی جائے گی،مشاعروں کے بغیر اس کی تکمیل ناممکن ہے ،لہٰذا اردو تہذیب و ادب و سے وابستگان کے لیے نہایت ضروری ہے کہ وہ اردو محفلوں کی بزم کو سجاتے رہیں۔اردو اکادمی، دہلی کی یہ بہترین کوشش ہے کہ اس نے ‘نئے پرانے چراغ’کے تحت پانچ روزہ عظیم الشان اجتماع منعقد کیا ہے ۔یہ چراغوں کو جلانے اور اور اُن کی روشنی کو جلابخشنے کی کوشش کی ہے ،اس کے لیے اردو اکادمی، دہلی کودل گہرائیوں سے مبارک باد۔ مذکورہ خیالات کا اظہار اردو اکادمی،دہلی کے زیر اہتمام منعقد ہ پانچ روزہ اجتماع ‘نئے پرانے چراغ’کی دوسری’’ محفلِ شعروسخن‘‘کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر خالد محمود نے کیا۔انہوںنے مشاعروں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ اگر مشاعرے نہ ہوں گے تو زبان و تہذیب بالخصوص اردو کی بقا کو نت نئے چیلنجوں کا سامنا ہوگا،اس وقت اگر ہمارے پاس اس کا جواب اور مدوا نہ ہوگا تویہ اَمر ناقابل برادشت ہوگا۔