اردو زبان کے فروغ کے سلسلے میں شعرا برادری کا اہم کردار: تقی الدین شجیع

   

ایوان احمد کی محفل عصرانہ سے منور حسین پروفیسر مسعود احمد و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 9 ۔ ستمبر : ( راست ) : جناب تقی الدین شجیع رکن نمائش سوسائٹی نے کہا کہ اردو زبان سے متعلق ہمیں مایوسی کی کوئی ضرورت نہیں ہے اردو زبان بہت زیادہ پھلتی پھولتی جا رہی ہے یہ صرف کسی ایک خطہ یا ملک کی حد تک محدود نہیں بلکہ عالمی طور پر اسے مقبولیت حاصل ہے اور مغربی ممالک میں بھی اس زبان کے جاننے والے ‘بولنے والے ‘لکھنے اور پڑھنے والے کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں ۔ انہوں نے اردو زبان کے فروغ کے سلسلے میں شعرا برادری کی کاوشوں کی بیحد ستائش کی اور کہا کہ پروفیسر مسعود احمد محفل عصرانہ کے ذریعے ہر منگل کو ایوان احمد میں ایک تقریب منعقد کرتے ہوئے اردو کو آگے بڑھانے میں اہم رول انجام دے رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان احمد ملک پیٹ میں پروفیسر محمد مسعود احمد کی جانب سے اہتمام کردہ ہفتہ واری محفل عصرانہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ موبائل فون کے بڑھتے ہوئے اس دور میں جو لوگ اردو کے نام پر جمع ہو رہے ہیں وہ قابل مبارک باد ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں پروفیسر مسعود احمد کی کوششوں و کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا قاضی زین العابدین نے کہا کہ اردو زبان کو زندہ و تابندہ رکھنے کے لیے ادبی محفلیں اور مشاعرے بہت ہی مفید ہیں ۔قابل تحسین ہیں وہ لوگ جو اردو زبان و ادب کے لیے اپنی اپنی سطح پر ہر ممکن خدمات انجام دے رہے ہیں اور اب اس وقت ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ان اردو محفلوں سے نوجوان نسل کو جوڑا جائے اور ان میں اردو زبان سے زیادہ سے زیادہ محبت پیدا کی جائے ۔ محفل کی کاروائی سنجیدہ و مزاحیہ شاعر جناب لطیف الدین لطیف نے چلائی اور مزاحیہ کلام سے محفل کو خوب محظوظ کیا ۔ داعی محفل پروفیسر محمد مسعود احمد نے کہا کہ محفل عصرانہ کے انعقاد کا مقصد شعرا برادری کو ہر ہفتہ اپنے کلام پیش کرنے کا موقع دینا اور اردو والوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔جناب محمد منور حسین بانی بزم حسین نے کہا کہ ایوان احمد کی سرگرمیوں کو مزید وسعت دیتے ہوئے علاقے ہاشم آباد میں بھی ایوان احمد کا دوسرا مرکز قائم کیا جا رہا ہے بہت جلد ہاشم آباد علاقے میں بھی ہر ماہ شاعروں’ ادیبوں’ مفکرین ‘دانشوروں اور دیگر معززین کے ساتھ نشستوں کا اہتمام کیا جائے گا ۔ مزاحیہ شاعر جناب نجیب احمد نجیب نے پروفیسر مسعود احمد کے فن اور شخصیت پر ایک مضمون سنایا جسے بے حد پسند کیا ۔جناب جہانگیر قیاس نے تیراکی کے مقابلے میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے پر پروفیسر مسعود احمد کو مبارکباد دی ۔ شاعرجناب سید فرید احمد المعروف فرید سحر نے محفل عصرانہ کی باقاعدگی سے اہتمام پر کہا کہ یہ محفل کا رنگ اور پیمانہ بالکل مختلف وجدا گانہ اور انفرادی اہمیت کا حامل ہے ۔ شاعر ڈاکٹر شکیل کی صدارت میں مشاعرہ ہوا جناب جنید حسینی جنید کی نعت سے آغاز ہوا۔ صدر مشاعرہ کے علاوہ پروفیسر محمد مسعود احمد، فرید سحر، لطیف الدین لطیف، نجیب احمد نجیب، جہانگیر قیاس، سہیل عظیم، ثنا اللہ انصاری وصفی، سلیمان صدیقی اعتبار، افتخارحسین، حفیظ راحیل نے کلام سنایا۔ جناب محمد حسام الدین ریاض نے شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر جناب سید ظہور الدین ، جناب سید افتخارالدین فہیم ‘ڈاکٹر محمد ناظم علی’ سید مجتبیٰ عابدی اور دوسروں نے شرکت کی۔