اردو زبان کے متعلق مختصر معلومات

   

خواجہ رحیم الدین
مولوی عبدالحق صاحب نے کیا خوب کہا ’’زبان کسی کی نہ ایجاد ہے اور نہ اردو ترکی زبان کا لفظ ہے۔ اردو ایک خوبصورت زبان ہے جو تقریباً ایک ہزار سال سے پہلے برج بھاشا سے نکلی ہے جو دہلی اور قرب و جوار میں بولی جاتی تھی۔ اردو میں عربی، فارسی، برج بھاشا، کھڑی بولی، ترکی، انگریزی اور پرتگالی زبان کے الفاظ شامل ہیں۔ پہلے پہلے اردو زبان چھاؤنیوں تک محدود تھی کیونکہ درباریوں اور پڑھے لکھے لوگوں کی زبان فارسی تھی لیکن اردو زبان کی مٹھاس نے آہستہ آہستہ اسے اتنا مقبول بنا دیا کہ پورے ہندوستان کی محبوب زبان بن گئی یوں تو ہندوستان میں محمود غزنوی کے آنے کے بعد آج سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے اردو زبان کی ابتداء ہوگئی تھی لیکن شاہ جہاں کے عہد میں یہ زبان اپنی حقیقت منوانے کے قابل ہوئی۔ ابتداء میں اردو زبان کا استعمال صرف تجارتی حلقہ جات تک محدود تھا۔ ابتداء میں خطوط لکھنے دفتری کاموں اور شعر و شاعری میں اردو نہیں چلتی تھی۔ جب شمالی ہندوستان کے لوگ کاروبار کے لئے دکن آئے اور محمد بن تغلق اپنی راجدھانی دہلی کے بجائے دکن منتقل کی تو ہزاروں لاکھوں لوگ دکن پہنچے اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ شمالی ہند کی وہی زبان جو صرف بول چال تک محدود تھی دکن کے مشہور ریاستوں مثلاً بیجاپور، احمد نگر اور گولکنڈہ کے حکمران کا سہارا پاکر رفتہ رفتہ ادبی حقیقت اختیار کرنے لگی اسی وجہ سے نظم و نشر کی ابتدائی شروعات کے نمونے ہمیں دکن میں پہلے ملتے ہیں۔
اگرچہ امیر خسرو سے اردو شاعری کی ابتداء ہوتی ہے لیکن اردو زبان کا پہلا صاحب دیوان شاعر جدید تحقیق کے مطابق سلطان محمد قلی قطب شاہ کو مانا گیا ہے حالانکہ ایک عرصہ تک ولی دکن کو اردو زبان کا پہلا شاعر کہا گیا ہے یہ کہنا درست ہے اردو کا جنم شمالی ہندوستان میں ہوا لیکن اس کی نشونما دکن میں ہوئی اور اس سرزمین میں پہنچ کر شباب حاصل ہوا اردو زبان کی ترقی کے لئے دہلی کے بعد لکھنؤ بنا۔ موجودہ اردو زبان تقریباً ایک ہزار سال کا طویل سفر طے کرکے ہم تک پہنچی اردو زبان کا سرسبز و شاداب چمن جو دلکش و جازبیت سے معمور ہے جو ہر قوم و ملت کے اہل قلم نے اس کی خدمت کی، یہاں میں دکن میں جناب عابد علی خان صاحب کو یاد نہ کروں تو یہ ہمارے لئے بدنصیبی ہوگی آپ نے اردو میں اخبار نکالا اور لاتعداد مشاعرے منعقد کئے غمار بارہ بنکوی کو جناب عابد علی خان صاحب بہت پسند کرتے تھے ۔ آج بھی آپ کا اخبار اردو کی خدمت میں لگا ہوا ہے۔ ہر قوم کے افراد اس اخبار سے استفادہ حاصل کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ یہ گنگا جمنی زبان کسی ایک زبان یا کسی ایک طبقہ کی مرہون منت نہیں ہاں اس ہر دل عزیز زبان کی نشو و نما میں ہندو بھائی، مسلم بھائی، سکھ بھائی اور عیسائی سب ہی کا ہاتھ ہے۔
یہ خالص ہندوستان کی زبان ہے اس نے یہیں جنم لیا اور یہیں پروان چڑھی۔ اس زبان میں ایک طرف جہاں حسن و عشق کی چاشنی اور گل و بلبل کی داستانیں ہیں وہاں دوسری طرف انقلاب زندہ باد کے نعرے بھی ہیں۔بہر حال اردو زبان اپنی خصوصیات کے باعث ہم کو خوشگوار ماحول دے رہی ہے ہم کو آج اور اب اس کا خیال ضرور رکھنا ہے۔ اردو اخبارات اردو رسالوں اور کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے۔ بچوں کو زبان پر عبور حاصل ہو۔سائنس و ادب و اخلاق اس میں مضمر ہے۔ اردو زبان زندہ ہے زندہ رہے گی زندہ رکھنا آج جامعہ عثمانیہ اور ہم سب کا فرض ہے۔ انشاء اللہ