پرانے شہر کی ترقی کیلئے روڈ میاپ تیار کرنے کا مطالبہ، مجلس کا کانگریس سے کوئی اتحاد نہ ہونے کا دعویٰ
حیدرآباد ۔ 16 ڈسمبر (سیاست نیوز) مجلس کے قائد مقننہ اکبرالدین اویسی نے وعدے کے مطابق اردو میڈیم ٹیچرس کے تقررات کیلئے خصوصی ڈی ایس سی منعقد کرنے پرانے شہر کو ترقی دینے کا روڈمیاپ تیار کرنے کیلئے اجلاس طلب کرنے کا حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کی ترقی و بہبود کیلئے کام کیا گیا تو حکومت کی تائید کی جائے گی۔ وعدوں سے انحراف کیا گیا تو خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔ اسمبلی میں گورنر کے خطبہ اظہارتشکر میں مباحث لیتے ہوئے اکبرالدین اویسی نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے اظہارتشکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کانگریس سے اتحاد یا مفاہمت نہ ہونے کا اعلان کیا جس کا وہ خیرمقدم کرتے ہیں کیونکہ ہمارا کانگریس سے کوئی اتحاد نہیں ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر کے طلب کرنے پر ہم سکریٹری پہنچ کر اقلیتوں کے مسائل اور پرانے شہر کی ترقی پر بات چیت کی تھی لیکن عوام میں یہ افواہ گشت ہورہی تھی ہم کانگریس کے قریب ہوگئے ہیں۔ ہم گئے نہیں ہمیں بلایا گیا تھا۔ ریاست کے عوام نے کانگریس کو اقتدار حوالے کیا اور وہ بھی عوامی منتخب نمائندہ ہیں۔ اقلیتوں کے مسائل اور پرانے شہر کی ترقی کیلئے وہ چیف منسٹر سے ملاقات کرتے رہیں گے۔ اکبرالدین اویسی نے شادی مبارک کے زیرالتواء درخواستوں کی فوری یکسوئی پر زور دیتے ہوئے گورنر کے خطبہ میں مائناریٹی ڈیکلریشن کا اعلان نہ کرنے پر سخت اعتراض کیا۔ آئمہ مؤذنین کو ماہانہ 15 ہزار روپئے مشاہرہ دینے کا مطالبہ کیا۔ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے ہیریٹیج کو برقرار رکھتے ہوئے ترقی دینے نظامیہ طبی کالج کو نظرانداز کردینے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ عمارت خستہ حالت کا شکار ہوگئی۔ وزیرصحت نظامیہ طبی کالج و ہاسپٹل کا دورہ کریں۔ ہاسپٹل کیلئے 72 کروڑ روپئے منظور ہوئے اس کو فوری جاری کروانے کی خواہش کی۔ 6 ضمانتوں کے علاوہ کانگریس کے منشور کے ذریعہ کئے گئے تمام وعدوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کانگریس اپنے وعدوں کو پورا کرے گی۔ کانگریس نے 50 سال تک حکمرانی کی ہے۔ کانگریس کے قابل لوگ ہیں۔ قابل لوگوں نے بڑی قابلیت کے ساتھ منشور تیار کیا ہے۔ جہاں تک ان کی اطلاع ہے کانگریس کے 6 گیارنٹی پر عمل آوری کیلئے سالانہ 2,16,181.5 لاکھ کروڑ روپئے کی ضرورت اور ساتھ ہی 6 ضمانتیں اور منشور کے وعدوں کی تکمیل کیلئے سالانہ 3,1014,92 لاکھ کروڑ روپئے کی ضرورت ہے۔ خواتین کو آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر کی سہولت فراہم کرنے سے 1200 کروڑ روپئے کا اضافی بوجھ عائد ہورہا ہے۔ بیروزگاری بھتہ کیلئے سالانہ 14,400 کروڑ روپئے کی ضرورت ہے۔ گھریلو صارفین کیلئے 200 یونٹ برقی مفت سربراہ کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے مگر کیسے عمل کیا جائے گا اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔ 201 یونٹ برقی استعمال کرنے والوں سے ایک یونٹ کا بل وصول کیا جائے گا یا سارا بل وصول کیا جائے گا، اس کی وضاحت کریں۔ خواتین کو ماہانہ 2500 دینے کے وعدہ پر عمل کرنے سے سالانہ 29 ہزار کروڑ روپئے کی ضرورت پڑے گی۔ 500 روپئے گیس کی اسکیم پر عمل آوری کرنے کیلئے سالانہ 5399 کروڑ کی ضرورت ہوگی۔ن