شکایت گذار رکن اسمبلی پائیلٹ روہت ریڈی سے پوچھ تاچھ، دوبارہ 27 ڈسمبر کو حاضر ہونے کی ہدایت
حیدرآباد۔ 21 ڈسمبر (سیاست نیوز) ملک بھر میں سنسنی پیدا کرنے والے ارکان اسمبلی کی خریدی معاملے میں ایک غیر متوقع پیش رفت ہوئی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) نے ارکان اسمبلی کی خریدی کے معاملہ میں جو سودے بازی ہوئی ہے اس کے بارے میں پوچھ تاچھ کرتے ہوئے بی آر ایس کے رکن اسمبلی روہت ریڈی کو چونکا دیا ہے۔ ای ڈی کے عہدیداروں نے منی لانڈرنگ کے کیس میں پوچھ تاچھ کرنے کے لئے روہت ریڈی کو نوٹس جاری کی ہے۔ تاہم ان سے ارکان اسمبلی کی خریدی کے معاملے میں پوچھ تاچھ کی گئی ہے۔ اس بات کا خود روہت ریڈی نے انکشاف کیا ہے۔ پہلے دن ای ڈی کے عہدیداروں نے پیر کو سہ پہر 3 بجے سے پوچھ تاچھ شروع کی جو 6 گھنٹوں تک جاری رہی۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پائیلٹ روہت ریڈی نے کہا کہ ان سے کس مسئلہ پر پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ ای ڈی کے عہدیدار نہیں بتا رہے ہیں کہ کل منگل کو دوبارہ بینک کے دستاویزات، تجارتی لین دین، جائیدادوں سے متعلق تمام تفصیلات کے ساتھ حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ہدایت کے مطابق وہ ای ڈی عہدیداروں کے سامنے حاضر ہوئے تب انہیں بتایا گیا کہ ان سے معین آباد فارم ہاوز ارکان اسمبلی کی خریدی کے معاملے میں پوچھ چاچھ کی جائے گی جس سے ارکان اسمبلی کی خریدی کا معاملہ نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔ واضح رہے کہ 26 اکتوبر کو روہت ریڈی کے علاوہ دوسرے تین ارکان اسمبلی سے سودے بازی کرنے کے معاملے میں رامچندرا بھارتی، نندکمار، سمہیاجی کو سائبرآباد پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔ اس وقت یہ بات منظر عام پر آئی تھی کہ پارٹی تبدیل کرنے پر روہت ریڈی کو 100 کروڑ روپے اور دوسرے ارکان اسمبلی کو 50 کروڑ روپے پیش کرنے کی سودے بازی ہوئی تھی۔ ای ڈی عہدیداروں نے روہت ریڈی سے سوال کیا کہ ان تینوں ملزمین سے آپ کی کیسے ملاقات ہوئی ہے۔ ان تینوں میں سب سے پہلے آپ سے کس نے ملاقات کی یا بات چیت کی۔ پارٹی تبدیل کرنے کے لئے کس نے پہلے تجویز پیش کی۔ کس نے پیسے دینے کا وعدہ کیا۔ کیا تم نے یہ بات کسی کو بتائی ہے۔ اس طرح تقریباً 8 گھنٹوں تک روہت ریڈی سے سوالات کی بوچھار کی گئی اور روہت ریڈی کو 27 ڈسمبر کو دوبارہ پوچھ تاچھ کے لئے حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی۔ شکایت کرنے والے سے پوچھ تاچھ کرنے پر روہت ریڈی نے تعجب کا اظہار کیا۔ ن